امریکا کے ساتھ جنگ کب ختم ہوگی؟ ایران نے اپنے مطالبات واضح کردیے

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ تہران نہ طویل جنگ چاہتا ہے اور نہ غیر ضروری مذاکرات، مطالبات تسلیم ہونے تک مزاحمت جاری رہے گی

امریکا کے ساتھ جنگ کب ختم ہوگی؟ ایران نے اپنے مطالبات واضح کردیے

تہران: ایران نے اپنے مطالبات تسلیم کیے جانے تک امریکا کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ نہ تو غیر معینہ مدت تک جنگ چاہتا ہے اور نہ ہی ایسے طویل مذاکرات کا خواہش مند ہے جن کا کوئی نتیجہ سامنے نہ آئے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں کہا کہ تہران کا مقصد مستقل جنگ جاری رکھنا نہیں بلکہ ایسی صورتحال پیدا کرنا ہے جس میں ایران کی دفاعی صلاحیت اور سلامتی کو طویل مدت کے لیے یقینی بنایا جاسکے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ان کا ملک پائیدار دفاعی بازدارندگی کے حصول کے لیے مذاکرات کا خواہش مند ہے، تاہم اپنے مطالبات تسلیم کرائے بغیر امریکا کے خلاف جاری لڑائی ختم نہیں کرے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تہران مذاکرات کے امکانات کو مکمل طور پر مسترد نہیں کررہا، لیکن کسی بھی ممکنہ پیش رفت کو اپنے مطالبات کی منظوری سے مشروط کررہا ہے۔ تاہم ان کے اس خطاب میں مطالبات کی مکمل تفصیلات یا مذاکرات کے لیے کوئی نیا باضابطہ طریقہ کار پیش نہیں کیا گیا۔

محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری ایک الگ بیان میں بھی امریکی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی اور کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے مقرر کردہ تمام ڈیڈ لائنز گزر چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ بڑھانے کی مہم بھی چلائی، لیکن ان کے بقول ان اقدامات کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران قائم ہے اور اس کے ریاستی ادارے کام کررہے ہیں۔

قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھی طنز کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہیں فزکس کا نوبیل انعام دیا جانا چاہیے۔ ان کا یہ تبصرہ ایران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ کے ممکنہ نتائج سے متعلق بیسنٹ کی پیش گوئیوں پر تنقید کے طور پر سامنے آیا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکی وزیر خزانہ کی پیش گوئیوں نے وقت کے تصور کو ہی بے معنی بنا دیا ہے۔ ان کے اس بیان کا اشارہ امریکی حکام کی جانب سے ایران پر دباؤ کے نتائج سامنے آنے کے لیے دی گئی مدتوں کی طرف تھا۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں تہران کے اس تازہ مؤقف کو اہم قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ ایرانی قیادت نے ایک جانب مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے تو دوسری جانب مذاکرات کے لیے بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔

تاہم محمد باقر قالیباف نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کے کون سے مخصوص مطالبات کی منظوری لڑائی کے خاتمے کے لیے ضروری ہوگی یا مستقبل میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کس سطح پر ہوسکتے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران فی الحال اپنے مؤقف میں تبدیلی کے بجائے امریکی دباؤ کے مقابلے میں مزاحمت جاری رکھنے اور ممکنہ مذاکرات میں اپنی شرائط منوانے کی پالیسی پر قائم ہے۔

خبر شیئر کریں: