تیزی سے بڑھتی آبادی، نئے صوبوں کی ضرورت اور پاکستان کا مستقبل
AI Generated
پاکستان کو درپیش حکمرانی کے مسائل پر بحث عموماً معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام، وسائل کی کمی اور انتظامی کمزوریوں کے گرد گھومتی ہے، لیکن ان تمام مسائل کے پس منظر میں ایک بنیادی سوال اکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے: کیا پاکستان کا موجودہ صوبائی ڈھانچہ اپنی بڑھتی ہوئی آبادی، وسیع جغرافیے اور بدلتی ہوئی معاشی و سماجی ضروریات سے مطابقت رکھتا ہے؟ کیا چار بڑے صوبوں کے ذریعے کروڑوں شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کا موجودہ نظام مؤثر حکمرانی، مساوی ترقی اور عوامی مسائل کے بروقت حل کی ضمانت دے سکتا ہے؟
یہ سوال محض صوبوں کی تعداد بڑھانے یا نئی سرحدیں کھینچنے کا نہیں، بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کا ہے۔ جب آبادی تیزی سے بڑھتی ہے، معیشت پیچیدہ ہوتی ہے اور شہری و دیہی ضروریات میں نمایاں فرق پیدا ہوتا ہے تو حکمرانی کے اداروں کو بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق ترقی کرنا پڑتی ہے۔ اگر صوبائی ڈھانچہ آبادی کی رفتار اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ نہ رہے تو فیصلہ سازی میں تاخیر، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم، بنیادی سہولتوں کی غیرمساوی فراہمی اور عوامی شکایات میں اضافہ ناگزیر ہوجاتا ہے۔
پاکستان کا تجربہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ریاست کی کارکردگی کا انحصار صرف دستیاب وسائل پر نہیں، بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ ان وسائل کو عوام تک پہنچانے کے لیے صوبائی حکومتوں، مقامی اداروں اور مالیاتی نظام کو کس حد تک مؤثر بنایا گیا ہے۔ نئے صوبوں پر سنجیدہ بحث اسی وسیع تر اصلاحاتی عمل کا حصہ ہونی چاہیے۔
آبادی میں اضافہ اور چار صوبوں کا امتحان
1951ء کے بعد پاکستان کی آبادی سات گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے اور حالیہ تخمینوں کے مطابق ملک کی آبادی تقریباً 26 کروڑ ہے۔ اس وسیع آبادی کو اب بھی چار صوبوں کے ذریعے حکومتی اور سیاسی طور پر منظم کیا جارہا ہے، حالانکہ ان صوبوں کی آبادی، رقبے، معاشی سرگرمیوں، قدرتی وسائل اور ترقیاتی ضروریات میں نمایاں تفاوت موجود ہے۔
پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ بتائی جاتی ہے، جبکہ رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے بھی کم ہے۔ یہ فرق اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کے مختلف حصوں میں عوامی ضروریات، حکومتی ترجیحات اور خدمات کی فراہمی کے تقاضے یکساں نہیں ہیں۔
ایک طرف گنجان آباد شہری علاقوں کو ٹرانسپورٹ، رہائش، نکاسیٔ آب، صحت، تعلیم اور روزگار کے بڑھتے ہوئے مسائل درپیش ہیں، تو دوسری جانب بلوچستان جیسے وسیع رقبے والے صوبے میں دور دراز آبادیوں تک اسکول، ہسپتال، پانی، سڑکیں اور دیگر بنیادی سہولتیں پہنچانا ایک الگ نوعیت کا چیلنج ہے۔ اسی طرح جنوبی پنجاب، اندرونِ سندھ، خیبر پختونخوا کے مختلف خطوں اور بلوچستان کے دور دراز اضلاع میں ترقیاتی ترجیحات اور مقامی ضروریات ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتی ہیں۔
ایسے حالات میں یہ سوال اہمیت اختیار کرتا ہے کہ کیا موجودہ صوبائی ڈھانچہ ہر خطے کی ضروریات کو یکساں توجہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اگر صوبائی دارالحکومت سے دور واقع علاقوں کو اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے طویل انتظامی مراحل سے گزرنا پڑے تو حکومتی فیصلوں اور عوامی ضروریات کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔
نئے صوبوں کی تشکیل پر بحث اسی مسئلے کا ایک ممکنہ حل تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ اس کا مقصد کسی موجودہ صوبے کو کمزور کرنا یا علاقائی تقسیم کو فروغ دینا نہیں، بلکہ حکمرانی کو عوام کے قریب لانا، سیاسی نمائندگی کو مؤثر بنانا اور ترقی کے مواقع کو زیادہ منصفانہ انداز میں تقسیم کرنا ہونا چاہیے۔
اٹھارہویں ترمیم کے بعد اگلا مرحلہ
پاکستان میں اٹھارہویں آئینی ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن کے ساتویں ایوارڈ نے وفاقی اور صوبائی تعلقات میں اہم تبدیلیاں پیدا کیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے متعدد شعبوں کی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل ہوئیں، جبکہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی قابلِ تقسیم محاصل میں صوبوں کا مجموعی حصہ 47.5 فیصد سے بڑھا کر 57.5 فیصد کردیا گیا۔
یہ اقدامات صوبائی خودمختاری کو مضبوط بنانے کے لیے اہم تھے، لیکن اب ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ صوبوں کو حاصل ہونے والے اختیارات اور وسائل کس حد تک عام شہری تک پہنچ رہے ہیں۔ اگر اختیارات اسلام آباد سے صوبائی دارالحکومتوں تک تو منتقل ہوجائیں، لیکن صوبائی حکومتوں کے اندر فیصلہ سازی اور وسائل کی تقسیم میں دور دراز علاقوں کو مناسب حصہ نہ ملے تو عوامی سطح پر مطلوبہ تبدیلی محدود رہ سکتی ہے۔
اسی لیے نئے صوبوں کی بحث کو اٹھارہویں ترمیم کی مخالفت یا صوبائی خودمختاری کے خاتمے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ اس بحث کا مقصد وفاقی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا، صوبائی حکومتوں پر غیرضروری انتظامی بوجھ کم کرنا اور عوامی ضروریات کے مطابق حکمرانی کے بہتر مواقع پیدا کرنا ہونا چاہیے۔
نئے صوبے اسی وقت فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں جب ان کے ساتھ بااختیار مقامی حکومتیں بھی موجود ہوں۔ صوبائی دارالحکومتوں کو عوام کے قریب لانا اہم ہے، لیکن ہر مسئلے کا حل نئے صوبائی دارالحکومت میں تلاش کرنا بھی درست نہیں۔ تعلیم، صحت، پانی، صفائی، مقامی سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولتوں کے لیے بلدیاتی اداروں کو بھی واضح اختیارات، مستقل مالی وسائل اور جواب دہی کا مؤثر نظام فراہم کرنا ضروری ہے۔
آئین کا آرٹیکل 140-اے مقامی حکومتوں کے قیام اور سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات کی منتقلی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ نئے صوبوں کی تشکیل کے ساتھ اس آئینی تقاضے پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہوگا، تاکہ اختیارات کا ارتکاز صرف ایک دارالحکومت سے دوسرے دارالحکومت تک محدود نہ رہے۔
تعلیم، صحت اور ترقیاتی تفاوت کا مسئلہ
پاکستان میں نئے صوبوں کی ضرورت کو تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں کی صورتِ حال سے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق، پانچ سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ صوبائی سطح پر یہ شرح پنجاب میں تقریباً 21 فیصد جبکہ بلوچستان میں 45 فیصد بتائی گئی ہے۔
اسی طرح منصوبہ بندی کمیشن کے ضلعی تعلیمی کارکردگی اشاریے میں جائزہ لیے گئے 134 اضلاع میں سے کوئی بھی ’’انتہائی اعلیٰ‘‘ کارکردگی کے زمرے تک نہیں پہنچ سکا۔ یہ نتائج محض تعلیمی شعبے کی کمزوریوں کو ظاہر نہیں کرتے، بلکہ اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ صوبائی سطح پر بنائی جانے والی پالیسیوں کو ہر ضلع کی ضروریات کے مطابق مؤثر نتائج میں تبدیل کرنا کتنا اہم ہے۔
لاہور ضلع کی آبادی تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ، جبکہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی کی آبادی تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار بتائی جاتی ہے۔ ان دونوں علاقوں کی آبادی، جغرافیائی حالات، معاشی سرگرمیاں اور خدمات کی فراہمی کے تقاضے ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ چنانچہ صوبائی حکومتوں کو بھی مختلف علاقوں کے لیے مقامی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی اور وسائل کی تقسیم کرنا ہوگی۔
نئے صوبے اس ضمن میں بہتر سیاسی نمائندگی، مقامی ترجیحات کے تعین اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ تاہم، ان سے حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہوگا جب نئی صوبائی حکومتیں تعلیم، صحت، پانی، سڑکوں اور روزگار کے لیے واضح اہداف مقرر کریں اور ان کی تکمیل کے لیے جواب دہ ہوں۔
اصل پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی صوبے کو کتنا بجٹ ملا، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ اس بجٹ کے نتیجے میں کتنے اسکول فعال ہوئے، کتنے ہسپتالوں میں عملہ اور ادویات دستیاب ہوئیں، کتنی آبادی کو صاف پانی ملا اور کتنے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
دنیا کے تجربات: نئے صوبے اور مؤثر حکمرانی
دنیا کے متعدد بڑے اور متنوع ممالک نے اپنی آبادی اور معاشی ضروریات میں تبدیلی کے ساتھ اپنے صوبائی یا ریاستی ڈھانچوں کو بھی تبدیل کیا ہے۔ نائجیریا نے آزادی کے وقت موجود تین علاقائی اکائیوں کے نظام سے آگے بڑھتے ہوئے 1967ء میں 12 ریاستیں قائم کیں، جن کی تعداد 1996ء تک 36 ہوگئی۔
انڈونیشیا میں صوبوں کی تعداد 1991ء کے 27 سے بڑھ کر 38 ہوچکی ہے، جبکہ کینیا نے 2013ء میں اپنے آٹھ صوبوں کی جگہ 47 منتخب کاؤنٹی حکومتیں قائم کیں۔ ان ممالک کے تجربات واضح کرتے ہیں کہ آبادی، جغرافیے اور معاشی ضروریات میں تبدیلی کے ساتھ حکومتی ڈھانچوں میں اصلاحات ممکن ہیں۔
پاکستان میں فی صوبہ اوسط آبادی تقریباً چھ کروڑ بنتی ہے، جبکہ انڈونیشیا، نائجیریا اور برازیل جیسے ممالک میں پہلی سطح کی انتظامی اکائیوں کی اوسط آبادی عموماً اس سے بہت کم بتائی جاتی ہے۔ تاہم، ان ممالک کی مثالوں کو پاکستان کے لیے صوبوں کی تعداد طے کرنے کا واحد پیمانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ہر ملک کے آئینی نظام، جغرافیے، مالیاتی وسائل، سیاسی تاریخ اور مقامی حکومتوں کی صلاحیت میں فرق ہوتا ہے۔
کینیا کا تجربہ اس لیے اہم ہے کہ وہاں حکومتی ڈھانچے کی تبدیلی کے ساتھ منتخب کاؤنٹی حکومتوں، آئینی ذمہ داریوں اور قومی آمدن میں مالیاتی حصے کے نظام کو بھی مضبوط کیا گیا۔ مالی وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں آبادی اور غربت جیسے عوامل کو اہمیت دی گئی، تاکہ پسماندہ علاقوں کی ضروریات کو بھی مدِنظر رکھا جاسکے۔
اس کے برعکس لبنان یہ تنبیہ کرتا ہے کہ محض چھوٹے اداروں یا زیادہ تعداد میں حکومتی اکائیوں کا قیام بہتر حکمرانی کی ضمانت نہیں۔ وہاں ایک ہزار سے زائد بلدیاتی اداروں کی موجودگی کے باوجود بہت سے ادارے محدود مالی وسائل اور انتظامی صلاحیت کے باعث مؤثر عوامی خدمات فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
پاکستان کے لیے ان تجربات کا مشترکہ سبق یہ ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کو محض جغرافیائی تقسیم نہیں بلکہ سیاسی نمائندگی، مالیاتی خودمختاری، انتظامی صلاحیت اور عوامی جواب دہی کی جامع اصلاحات کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
پاکستان میں کتنے نئے صوبے؟ مختلف امکانات پر سنجیدہ بحث
پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو کسی ایک مخصوص نقشے یا حتمی تعداد تک محدود کرنے کے بجائے مختلف امکانات کی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے آبادی، رقبے، جغرافیائی ہم آہنگی، معاشی وسائل، عوامی مشاورت اور حکومتی صلاحیت کو مشترکہ بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔
ایک نسبتاً محدود تجویز کے تحت موجودہ چاروں صوبوں کو چار چار صوبوں میں تقسیم کرنے کے امکان کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، جس سے ملک میں صوبوں کی مجموعی تعداد 16 ہوجائے گی۔ تقریباً 26 کروڑ آبادی کو 16 صوبوں پر تقسیم کیا جائے تو فی صوبہ اوسط آبادی تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ بنتی ہے۔ یہ محض ریاضیاتی اوسط ہے؛ حقیقی صوبوں کی آبادی ان کے رقبے، جغرافیے اور دیگر عوامل کے مطابق مختلف ہوگی۔
ایک زیادہ وسیع ماڈل کے تحت آبادی میں توازن اور جغرافیائی ہم آہنگی کی بنیاد پر 23 سے 25 صوبوں کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح موجودہ ڈویژنوں، تاریخی خطوں، معاشی روابط اور عوامی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اس سے زیادہ صوبوں کی تجاویز پر بھی بحث ہوسکتی ہے۔
تاہم، ان میں سے کسی ماڈل کو پیشگی طور پر حتمی یا بہترین قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ ہر تجویز کے لیے آبادی، رقبے، فاصلے، معاشی سرگرمیوں، قدرتی وسائل، موجودہ بنیادی ڈھانچے، سرکاری ملازمین اور متوقع اخراجات کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔
کم تعداد میں نسبتاً بڑے صوبے قائم کرنے سے مالیاتی اور انتظامی نظام کو منظم رکھنا آسان ہوسکتا ہے، جبکہ زیادہ صوبے قائم کرنے سے سیاسی نمائندگی اور فیصلہ سازی کو عوام کے قریب لانے کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ دوسری جانب، ہر نئے صوبے کے لیے دارالحکومت، اسمبلی، سیکریٹریٹ، محکموں، عملے اور دیگر بنیادی سہولتوں کی ضرورت ہوگی۔ اگر ان اخراجات کے لیے مستقل مالی وسائل اور واضح اختیارات فراہم نہ کیے جائیں تو نئے صوبے عوامی توقعات پوری کرنے میں ناکام بھی ہوسکتے ہیں۔
اس لیے اصل بحث یہ نہیں کہ نئے صوبوں کی تعداد 16 ہونی چاہیے، 23 سے 25 یا اس سے زیادہ، بلکہ یہ ہے کہ کون سا ماڈل عوامی ضروریات، قومی وحدت، مالیاتی پائیداری اور بہتر حکمرانی کے لیے زیادہ موزوں ثابت ہوسکتا ہے۔
مالیاتی خودمختاری کے بغیر نئے صوبے نامکمل
پاکستان کے موجودہ نظام میں ایک اہم کمزوری صوبائی سطح پر اپنے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کی محدود مقدار ہے۔ مالی سال 2024-25ء کے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق، صوبائی ٹیکسوں سے تقریباً 983 ارب روپے حاصل ہوئے، جو مجموعی قومی پیداوار کے 0.9 فیصد سے بھی کم بنتے ہیں۔
اس کے برعکس، زراعت مجموعی قدرِ افزوده میں تقریباً 24 فیصد حصہ رکھتی ہے، لیکن اس شعبے سے حاصل ہونے والی زرعی آمدن پر ٹیکس کی وصولی طویل عرصے سے اس کے معاشی حجم کے مقابلے میں محدود رہی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایک تخمینے میں زراعت پر مؤثر ٹیکس کی شرح تقریباً 0.3 فیصد بتائی گئی ہے۔
اس صورتِ حال کے پیچھے ٹیکس انتظامیہ کی محدود صلاحیت، نامکمل معلومات، کمزور نفاذ اور زرعی آمدن کی درست نشاندہی میں مشکلات جیسے عوامل شامل ہیں۔ 2025ء میں زرعی آمدن ٹیکس سے متعلق اصلاحات اور شرحوں میں اضافے کے باوجود مؤثر وصولی کے لیے بہتر معلومات، شفاف طریقۂ کار اور مضبوط انتظامی نظام کی ضرورت برقرار ہے۔
اگر نئے صوبے قائم کیے جائیں تو ان کے لیے مالیاتی خودمختاری کا ایک قابلِ عمل نظام بھی وضع کرنا ہوگا۔ قومی مالیاتی وسائل میں ان کا حصہ واضح اور منصفانہ اصولوں کے تحت طے کیا جائے، صوبائی محصولات جمع کرنے کی صلاحیت بہتر بنائی جائے اور اخراجات کے لیے جواب دہی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔
وفاقی بورڈ آف ریونیو اور صوبائی ٹیکس اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ، ڈیجیٹل ریکارڈ، خودکار نظام اور ٹیکس دہندگان کے لیے آسان طریقۂ کار اس ضمن میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس کے بوجھ کی منصفانہ تقسیم اور عوامی وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
نئے صوبوں کا مقصد صرف نئے دفاتر، نئی اسمبلیاں یا نئے عہدے پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان کے قیام سے عوامی خدمات بہتر ہوں، معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے اور حکومتیں اپنے فیصلوں کے لیے شہریوں کے سامنے جواب دہ ہوں۔
نئے صوبے، مقامی حکومتیں اور قومی استحکام
پاکستان کے لیے نئے صوبوں کی تشکیل کا ایک اہم پہلو مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا بھی ہے۔ اگر نئے صوبے قائم ہونے کے بعد تمام اختیارات نئے صوبائی دارالحکومت میں مرتکز ہوجائیں تو عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا۔ اس لیے صوبائی خودمختاری کے ساتھ بلدیاتی اداروں کو بھی سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات دینا ضروری ہے۔
بلوچستان میں معدنیات، ساحلی معیشت، زراعت اور لائیوسٹاک؛ جنوبی پنجاب میں زرعی پیداوار اور متعلقہ صنعتیں؛ اندرونِ سندھ میں زراعت اور مقامی صنعتیں؛ جبکہ بڑے شہری مراکز میں تجارت، خدمات، ٹیکنالوجی اور صنعت مختلف نوعیت کی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتے ہیں۔ بہتر صوبائی نمائندگی ان علاقائی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے مواقع بڑھا سکتی ہے۔
ایسے ملک کے لیے جو سیلاب، پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی، تیزی سے بڑھتی شہری آبادی اور نوجوانوں کے روزگار جیسے چیلنجوں سے دوچار ہو، عوام کے قریب حکمرانی محض سہولت نہیں بلکہ معاشی استحکام اور قومی لچک کا اہم جزو ہے۔
تاہم، نئے صوبوں کی تشکیل کو علاقائی اختلافات، سیاسی رقابت یا لسانی تقسیم کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ اس عمل میں آئینی طریقۂ کار، عوامی مشاورت، منصفانہ مالیاتی تقسیم اور تمام متعلقہ علاقوں کے حقوق کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ نئے صوبے قومی وحدت کو کمزور کرنے کے بجائے وفاقی نظام میں نمائندگی اور احساسِ شراکت کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی تشکیل شفاف اور منصفانہ اصولوں کے تحت ہو۔
اصلاحات کا راستہ: اعدادوشمار، مشاورت اور آئینی طریقۂ کار
پاکستان کو نئے صوبوں کے معاملے پر ایک جامع، شواہد پر مبنی اور مرحلہ وار حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے آبادی، جغرافیے، ترقیاتی ضروریات، مالی وسائل، خدمات کی فراہمی اور موجودہ صوبائی صلاحیتوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ اس کے بعد مختلف تجاویز کے مالیاتی، معاشی، سیاسی اور انتظامی اثرات کا موازنہ کیا جائے۔
ہر تجویز کے لیے یہ واضح ہونا چاہیے کہ نئے صوبے کی حدود کیا ہوں گی، اس کی معاشی بنیاد کیا ہوگی، اسے مستقل آمدن کہاں سے حاصل ہوگی، اس کے دارالحکومت اور محکموں پر کتنے اخراجات آئیں گے اور عوامی خدمات کی بہتری کو کس طرح ناپا جائے گا۔ متعلقہ علاقوں کے شہریوں، سیاسی نمائندوں، ماہرین، کاروباری حلقوں اور سول سوسائٹی کو بھی مشاورت کے عمل میں شامل کرنا چاہیے۔
آئینی تقاضوں کی پابندی بھی ناگزیر ہے۔ پاکستان میں کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے یا نیا صوبہ قائم کرنے کا معاملہ آئین کے آرٹیکل 239(4) سمیت متعلقہ آئینی طریقۂ کار کے تحت آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ اس عمل کو سیاسی اتفاقِ رائے، قانونی تقاضوں اور عوامی مفاد کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ نئے صوبوں کی تشکیل کا انتظار کیے بغیر موجودہ صوبوں میں مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے، مالیاتی منتقلی کو شفاف بنانے، ضلعی سطح پر ترقیاتی منصوبہ بندی بہتر کرنے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو قابلِ پیمائش بنانے کے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
مضبوط پاکستان کے لیے عوام کے قریب حکمرانی
پاکستان کے سامنے بنیادی سوال یہ نہیں کہ موجودہ چار صوبے ہمیشہ کے لیے کافی ہیں یا نئے صوبوں کی کوئی مخصوص تعداد ہی تمام مسائل حل کرسکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ملک کا موجودہ صوبائی ڈھانچہ اپنی بڑھتی ہوئی آبادی، وسیع جغرافیے اور متنوع معاشی و سماجی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
نئے صوبوں کی تشکیل اس سوال کا ایک اہم ممکنہ جواب ہے، لیکن اس کی کامیابی مالیاتی خودمختاری، مؤثر اداروں، مضبوط مقامی حکومتوں، منصفانہ وسائل کی تقسیم اور جواب دہ سیاسی قیادت سے وابستہ ہوگی۔ محض نقشے تبدیل کرنے سے ترقی نہیں آتی؛ ترقی اس وقت آتی ہے جب حکومتی فیصلے عوامی ضروریات کے مطابق ہوں اور ان پر عمل درآمد کے نتائج شہریوں کی زندگیوں میں نمایاں بہتری پیدا کریں۔
بالآخر مضبوط ریاست وہ نہیں جو صرف وسیع اختیارات اور بڑے صوبائی ڈھانچے رکھتی ہو، بلکہ وہ ہے جو اپنے شہریوں تک بروقت انصاف، معیاری تعلیم، صحت، پانی، روزگار اور بنیادی سہولتیں پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کا اصل مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ کم ہو، ترقی کے مواقع زیادہ منصفانہ ہوں اور ہر خطے کے عوام کو یہ یقین ہو کہ قومی وسائل اور حکومتی توجہ میں ان کا بھی جائز حصہ ہے۔