دیہی بلوچستان میں خواتین کی شرحِ خواندگی 27 فیصد سے کم، صوبائی مشیر برائے ترقیٔ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی
مردوں کے مقابلے میں تعلیمی فرق برقرار؛ صوبائی مشیر نے ہنرمندی، بلا سود مالی معاونت اور خواتین کی منڈیوں کو اہم قرار دیا۔
کوئٹہ: بلوچستان میں دیہی خواتین کی تعلیم اور روزگار سے متعلق اعداد و شمار نے ترقیاتی منصوبہ بندی کے ایک اہم مسئلے کو نمایاں کیا ہے۔ صوبائی مشیر برائے ترقیٔ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کے مطابق 2023 کی مردم شماری میں دیہی بلوچستان کی خواتین کی شرحِ خواندگی 26.59 فیصد جبکہ مردوں کی 44.16 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ یہ فرق بتاتا ہے کہ دیہی آبادی کے ایک بڑے حصے کو تعلیم تک یکساں رسائی حاصل نہیں۔
دیہی خواتین کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہا کہ خواتین کھیتی باڑی، مویشی پالنے، دستکاری، قالین بافی اور گھریلو صنعتوں کے ذریعے مقامی معیشت میں حصہ ڈالتی ہیں۔ تاہم ان کی محنت کا بڑا حصہ رسمی معاشی ریکارڈ میں پوری طرح نظر نہیں آتا۔ ان کے بقول ہنر موجود ہونے کے باوجود تربیت، سرمایہ اور مصنوعات کی منڈی تک رسائی محدود رہتی ہے۔
صوبائی مشیر نے بلوچستان ویمن اکنامک ایمپاورمنٹ انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے ہنرمند خواتین کے لیے بلا سود مالی سہولت، خواتین کی منڈیوں اور پیشہ ورانہ تربیت کے منصوبوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے بچیوں کی محفوظ تعلیمی رسائی، صحت کی سہولتوں اور قانونی معاونت کو بھی معاشی خودمختاری سے جوڑا۔
ان اعلانات کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن اصل امتحان دور دراز علاقوں تک سہولتوں کی فراہمی اور ان سے فائدہ اٹھانے والی خواتین کی تعداد ہوگا۔ موجودہ اعداد و شمار کم از کم یہ واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان میں خواتین کی معاشی شرکت بڑھانے کے لیے تعلیم کی کمی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔





