موسمیاتی تبدیلی سے جنوبی ایشیا کے کروڑوں افراد بے گھر ہونے کا خدشہ، اقوام متحدہ
2050 تک شدید موسمی حالات کے باعث 4 کروڑ 5 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوسکتے ہیں، سیلاب، خشک سالی اور بڑھتی گرمی سے روزگار اور خوراک کے ذرائع بھی خطرے میں ہیں۔
نئی دہلی: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی جنوبی ایشیا میں لاکھوں خاندانوں کے گھروں، روزگار اور مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بنتی جارہی ہے۔ اگر موسمیاتی خطرات میں اضافہ جاری رہا تو 2050 تک خطے کے 4 کروڑ 5 لاکھ افراد اپنے گھر چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہونے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے بھارت کے دورے کے دوران کہا کہ سمندر کی سطح میں اضافہ، بار بار آنے والے سیلاب، شدید گرمی اور خشک سالی جنوبی ایشیا میں لوگوں کی زندگیوں کو براہ راست متاثر کررہے ہیں۔ ان حالات میں کئی خاندانوں کے لیے اپنے آبائی علاقوں میں رہنا اور روزگار جاری رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
ایمی پوپ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صرف گھروں کو پہنچنے والے نقصان تک محدود نہیں۔ جب کسان فصلیں اگانے کے قابل نہیں رہتے یا مویشیوں کے لیے خوراک اور پانی کا انتظام مشکل ہوجاتا ہے تو ان کے پاس دوسری جگہ منتقل ہونے کے سوا محدود راستے رہ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے لوگوں کا پہلا قدم اکثر نقل مکانی ہوتا ہے۔ بعض خاندان قریبی شہروں کا رخ کرتے ہیں، جبکہ دوسرے بہتر روزگار اور محفوظ زندگی کی تلاش میں اپنے علاقوں سے کہیں دور چلے جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق بدترین موسمیاتی صورتحال میں 2050 تک جنوبی ایشیا کے 4 کروڑ 5 لاکھ افراد کو نقل مکانی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ تعداد ایک ممکنہ خطرے کا تخمینہ ہے، ایسا نہیں کہ اتنے افراد کی نقل مکانی یقینی طور پر ہوگی۔
ایمی پوپ نے ہمالیائی خطے میں بڑھتے خطرات کی مثال دیتے ہوئے نیپال میں 26 اگست کو پیش آنے والی قدرتی آفت کا ذکر کیا۔ اس واقعے میں پہاڑی اور برفانی تودہ گرنے سے شدید سیلاب آیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور متاثرہ آبادی کو امداد کی ضرورت پیش آئی۔
ان کے مطابق آئی او ایم نے نیپال میں متاثرہ افراد کی مدد کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پہاڑی علاقوں میں موسمیاتی خطرات کتنی تیزی سے انسانی زندگی اور بنیادی سہولیات کو متاثر کرسکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی عہدیدار نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی کے خطرات زیادہ سنگین ہیں کیونکہ یہاں آبادی بہت زیادہ ہے اور کئی علاقوں میں لوگوں کے پاس قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل اور بنیادی سہولیات محدود ہیں۔
بھارت کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شدید گرمی بھی لوگوں کو شہروں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کررہی ہے۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے بعض افراد بہتر رہائش، روزگار اور گرمی سے بچاؤ کی سہولیات کی تلاش میں شہری مراکز کا رخ کررہے ہیں۔
تاہم شہروں کی طرف بڑھتی نقل مکانی اپنے ساتھ نئے مسائل بھی پیدا کرسکتی ہے۔ رہائش، پانی، روزگار، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات پر دباؤ بڑھنے سے پہلے سے موجود شہری مسائل مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔
ایمی پوپ نے عالمی برادری کے ردعمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والی کمزور آبادیوں کو درپیش خطرات کے مقابلے میں دنیا کی توجہ اور عملی اقدامات کی رفتار ناکافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قدرتی آفت کے بعد متاثرہ علاقوں میں امداد اور بحالی پر اربوں ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں، جبکہ پیشگی حفاظتی اقدامات اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی تیاری پر اس کے مقابلے میں کہیں کم رقم درکار ہوتی ہے۔
ان کے مطابق حکومتوں کو صرف آفت آنے کے بعد امدادی سرگرمیوں پر انحصار کرنے کے بجائے پہلے سے ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن سے لوگوں کے گھر، روزگار اور زرعی زمینیں محفوظ رہ سکیں۔
اقوام متحدہ کی عہدیدار نے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کو موسمیاتی خطرات کم کرنے کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے موسم کی پیش گوئی اور مقامی آبادی کے معاشی حالات کا تجزیہ کرکے ان علاقوں کی پہلے سے نشاندہی کی جاسکتی ہے جہاں لوگوں کے بے گھر ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر کسی علاقے میں سیلاب، خشک سالی یا شدید گرمی کے باعث نقل مکانی کا خطرہ پہلے سے معلوم ہو تو حکومتیں متاثرہ خاندانوں کے گھر چھوڑنے سے پہلے ہی ان کی مدد کرسکتی ہیں۔
ایسے اقدامات میں زرعی طریقوں کو بہتر بنانا، پانی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا، لوگوں کو متبادل روزگار کی تربیت دینا اور بار بار قدرتی آفات سے متاثر ہونے والی آبادیوں کو ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شامل ہوسکتا ہے۔
ایمی پوپ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے مناسب فنڈز کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کئی حکومتوں کو بین الاقوامی مالی وسائل تک رسائی حاصل کرنے اور ان کے استعمال کے پیچیدہ طریقہ کار سے گزرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
انہوں نے بھارت میں قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع دینے والے نظام، ہنگامی امدادی انتظامات اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں ہونے والی سرمایہ کاری کو مثبت پیش رفت قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ کوئی بھی حکومت اس بڑے مسئلے سے اکیلے نہیں نمٹ سکتی۔
ایمی پوپ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث نقل مکانی کو صرف ایک بحران کے طور پر دیکھنے کے بجائے بعض حالات میں لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے ذریعے کے طور پر بھی سمجھنا چاہیے۔ محفوظ اور منظم نقل مکانی سے متاثرہ افراد کو روزگار مل سکتا ہے اور دوسرے ممالک میں افرادی قوت کی کمی پوری کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ بیرون ملک کارکنوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ قانونی اور محفوظ راستے فراہم کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ روزگار کی تلاش میں جانے والے افراد استحصال اور غیر محفوظ حالات سے بچ سکیں۔
جنوبی ایشیا کے لیے یہ انتباہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ خطے کے کئی ممالک میں بڑی آبادی کا روزگار زراعت، مویشی بانی اور موسمی حالات سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ سیلاب، خشک سالی اور گرمی کی شدت میں اضافہ ان خاندانوں کی آمدنی اور خوراک کی دستیابی پر اثر ڈال سکتا ہے۔
اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومتوں، عالمی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ بروقت منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی اور مالی تعاون سے لاکھوں افراد کو اپنے گھر اور روزگار چھوڑنے کی نوبت سے بچایا جاسکتا ہے۔





