کراچی میں اے آئی سے جعلی تصاویر بنا کر خاتون کو ہراساں کرنے والا ملزم گرفتار
گلستانِ جوہر میں سائبر کرائم ایجنسی کی کارروائی، ملزم پر جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے خاتون کی کردار کشی کا الزام
AI Generated
این سی سی آئی اے کے ترجمان کے مطابق ملزم کو گلستانِ جوہر کے علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے ایک خاتون کو ہراساں کیا، ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور ان کے خلاف توہین آمیز مواد پھیلایا۔
ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے مبینہ طور پر فیس بک اور انسٹاگرام پر جعلی اکاؤنٹس بنائے تھے۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعے متاثرہ خاتون کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ، ڈیجیٹل طور پر تبدیل شدہ اور دوسری تصاویر کے ساتھ جوڑ کر بنائی گئی تصاویر اپ لوڈ اور شیئر کی گئیں۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق ان سرگرمیوں کا مقصد مبینہ طور پر خاتون کو بدنام کرنا اور ان کی کردار کشی کرنا تھا۔ ملزم کے خلاف الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون پیکا 2016، جس میں 2025 میں ترامیم کی گئی تھیں، کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
مقدمے میں دفعہ 16، جو کسی شخص کی شناخت سے متعلق معلومات کے غیر مجاز استعمال سے متعلق ہے، دفعہ 20، جو کسی فرد کی عزت و وقار کے خلاف جرائم سے متعلق ہے، اور دفعہ 24، جو سائبر اسٹاکنگ سے متعلق ہے، شامل کی گئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کی مکمل نوعیت اور دائرہ کار معلوم کیا جاسکے۔ اس کے ساتھ یہ بھی جانچ کی جارہی ہے کہ آیا اس معاملے میں کوئی دوسرے افراد بھی ملوث تھے۔
حکام نے تاحال ملزم کی شناخت یا متاثرہ خاتون کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔ مقدمے میں لگائے گئے الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔
یہ واقعہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تصاویر میں ردوبدل اور جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل کی ایک اور مثال ہے، جہاں ڈیجیٹل مواد کو کسی فرد کی ساکھ متاثر کرنے اور اسے ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ماخذ: 17 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اصل رپورٹ۔





