دشت گوران حملہ بلوچ روایات نہیں، کھلی دہشت گردی ہے، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی
بلوچستان اسمبلی میں دشت گوران حملے کی مذمت، اسما جتک کیس پر پیش رفت سے آگاہ کیا، صوبے بھر کے اسکولوں اور کالجوں کی عمارتوں کا معائنہ کرنے کی ہدایت
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دشت گوران میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ یہ بلوچیت نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔ بلوچ عوام کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلا جارہا ہے، نہتے شہریوں اور مسافروں کو شہید کرنا کسی بھی روایت کا حصہ نہیں ہوسکتا۔
جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ارکان کی جانب سے نکتہ اعتراض پر اٹھائے گئے معاملات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ دشت گوران جیسے واقعات سے اب صوبے کے عوام پر بھی واضح ہورہا ہے کہ دہشت گردی کے ذریعے بلوچوں کو کس صورتحال سے دوچار کیا جارہا ہے۔
اس سے قبل رکن صوبائی اسمبلی میر جہانزیب مینگل نے نکتہ اعتراض پر بتایا کہ دشت گوران میں میر قمبر خان مینگل کے گھر پر صبح چھ بجے فتنہ الہندوستان نے حملہ کیا۔ ان کے مطابق صبح چھ بجے سے شام چار بجے تک فائرنگ جاری رہی، جس کے نتیجے میں احمد نواز مینگل شہید جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔
میر جہانزیب مینگل نے کہا کہ یہ ان کا اپنا گھر ہے جہاں ان کی والدہ اور بہنیں بھی موجود تھیں۔ انہوں نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی کارروائیوں کا بلوچ روایات سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے واقعے کا نوٹس لینے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک کی جانب سے گزشتہ اجلاس میں اٹھائے گئے اسما جتک کے معاملے پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں ایک ایسی شخصیت کا نام لیا گیا جس کے والد بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اور یہ کہا گیا کہ ان کے گھر پر اسما جتک کے والد کے قاتل موجود ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی شخص کے بارے میں اس نوعیت کی بات اسمبلی کے فلور پر کرنا مناسب نہیں۔ ان کے پاس سیکیورٹی اداروں کی رپورٹس موجود ہیں اور متعلقہ رکن کو جو معلومات ملی ہیں وہ درست نہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ سیکیورٹی فورسز اسما جتک کے اہل خانہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے جس کی تمام تفصیلات اسمبلی کے فلور پر بیان نہیں کی جاسکتیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی رکن اسمبلی کو اس کیس کے بارے میں معلومات درکار ہیں تو وہ ان سے براہ راست رابطہ کرسکتا ہے۔ وہ متعلقہ رکن کو آگاہ کریں گے کہ حکومت نے اس معاملے میں اب تک کیا پیش رفت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور اس کے نتائج پورا بلوچستان دیکھے گا۔
اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خیبرپختونخوا میں اسکول کی عمارت سے متعلق پیش آنے والے واقعے کا معاملہ اٹھایا، جس میں بچوں اور بچیوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حالت کا فوری جائزہ لیا جائے۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تجویز دی کہ محکمہ تعلیم، محکمہ مواصلات و تعمیرات اور مقامی کونسلروں کو اس کام کی ذمہ داری دی جائے تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اسکولوں کا معائنہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو اسکول خستہ حال عمارت میں قائم ہو، اسے بچوں کی حفاظت کے لیے بند کردیا جائے۔
اس موقع پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن عبدالخالق اچکزئی نے کہا کہ صوبے میں مدارس بھی موجود ہیں جہاں بڑی تعداد میں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، اس لیے ان عمارتوں کی حالت کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
رکن صوبائی اسمبلی سردار عبدالرحمٰن کھیتران نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبے میں کئی برسوں سے برسر اقتدار جماعت نے اسکولوں کی عمارتوں کی حالت کا جائزہ کیوں نہیں لیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے صوبے کے تمام اسکولوں اور کالجوں کی عمارتوں کا معائنہ کرنے کی ہدایت جاری کردی۔
وزیراعلیٰ نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنے علاقوں میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی جانچ پڑتال کرکے رپورٹ پیش کریں تاکہ عمارتوں کی حالت اور طلبہ کے تحفظ کے حوالے سے ضروری اقدامات کیے جاسکیں۔
مدارس کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ حساس معاملہ ہے، اس لیے قائد حزب اختلاف کو اعتماد میں لے کر مدارس کی عمارتوں کا جائزہ لینے کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔
اجلاس میں صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے بھی نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صوبے کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی دباؤ سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں انہوں نے کسی شخصیت کا نام نہیں لیا تھا، تاہم اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف باتیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ اور ہدایت الرحمٰن بلوچ اپنے ضمیر کی آواز پر ظلم کے خلاف بات کررہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ متعلقہ معاملات کی تفصیلات جمع کررہے ہیں جنہیں اسمبلی میں پیش کرنے کے ساتھ پریس کانفرنس کے ذریعے بھی سامنے لائیں گے۔
حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ انہوں نے کبھی اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا اور جب تک زندہ ہیں، ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔





