کراچی میں دو سال بعد پولیو کیس سامنے آگیا، ملک بھر میں تعداد 7 ہوگئی
ضلع شرقی کی جمالی کالونی میں 6 ماہ کے بچے میں وائرس کی تصدیق، رواں سال خیبرپختونخوا میں 5 اور سندھ میں 2 کیس رپورٹ ہوئے۔
کراچی: تقریباً دو سال کے وقفے کے بعد کراچی میں پولیو کا نیا کیس سامنے آگیا ہے، جس کے بعد رواں سال پاکستان میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد سات ہوگئی ہے۔ متاثرہ بچہ کراچی کے ضلع شرقی کا رہائشی ہے۔
انسداد پولیو کے قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے پیر 19 اکتوبر کو نئے کیس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ بچہ چھ ماہ کا ہے اور اس کا تعلق ضلع شرقی کی یونین کونسل جمالی کالونی سے ہے۔
حکام کے مطابق بچے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی نشاندہی نگرانی کے قومی نظام کے ذریعے ہوئی، جس کے بعد اسلام آباد میں قومی ادارہ صحت کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے وائرس کی تصدیق کی۔
قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے بتایا کہ نئے کیس کی جامع تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ انسداد پولیو پروگرام کی متعلقہ ٹیمیں وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سائنسی شواہد کی بنیاد پر آئندہ اقدامات کا جائزہ لے رہی ہیں۔
حکام کے مطابق ان اقدامات میں متاثرہ علاقے اور اس کے گردونواح میں خصوصی ویکسینیشن سرگرمیاں شروع کرنا اور بچوں کی معمول کی حفاظتی ٹیکہ جات کی سہولت کو مزید مؤثر بنانا شامل ہوسکتا ہے۔
این ای او سی کے مطابق کراچی میں اس سے قبل پولیو کا آخری کیس دسمبر 2024 میں رپورٹ ہوا تھا۔ تقریباً دو سال بعد نئے مریض کی تصدیق ایسے وقت میں ہوئی ہے جب شہر کے ماحولیاتی نمونوں میں رواں سال بھی پولیو وائرس کی موجودگی سامنے آتی رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پولیو کے مجموعی کیسز میں کمی کے باوجود ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بچوں کے لیے خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
قومی اعدادوشمار کے مطابق رواں سال اب تک پاکستان میں پولیو کے سات کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں پانچ خیبرپختونخوا اور دو سندھ سے سامنے آئے۔ خیبرپختونخوا کے پانچ متاثرہ بچوں میں سے چار کا تعلق صوبے کے جنوبی اضلاع سے ہے۔
انسداد پولیو حکام کے مطابق پاکستان میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران اس بیماری کے کیسز میں تقریباً 99.8 فیصد کمی آئی ہے۔ نوے کی دہائی کے آغاز میں سالانہ تقریباً 20 ہزار کیسز کا تخمینہ لگایا جاتا تھا، جبکہ 2025 میں ملک بھر سے 31 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔
حکام نے بتایا کہ رواں سال پاکستان میں پولیو سے بچاؤ کی چار بڑی مہمات چلائی جاچکی ہیں، جن میں چار کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا۔ زیادہ خطرے والے علاقوں میں خصوصی مہمات کے ذریعے منہ سے پلائی جانے والی اور انجیکشن کی صورت میں دی جانے والی ویکسین بھی استعمال کی گئی۔
ستمبر میں چلائی گئی انسداد پولیو مہم کے دوران ملک بھر میں دو کروڑ 93 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے گئے۔ حکام کے مطابق آئندہ مہم 2 سے 8 نومبر تک جاری رہے گی، جس میں کراچی کے تمام اضلاع سمیت ملک کے 97 اضلاع میں تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو بنیادی طور پر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ وائرس اعصابی نظام پر حملہ کرکے مستقل معذوری اور بعض صورتوں میں موت کا سبب بن سکتا ہے۔ بیماری کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، تاہم حفاظتی ویکسین سے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔
انسداد پولیو پروگرام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں اور معمول کے حفاظتی ٹیکوں کا شیڈول بھی مکمل کریں تاکہ بچوں کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ رکھا جاسکے۔





