بچوں کی آن لائن بلیک میلنگ اور فراڈ میں ملوث 10 مشتبہ افراد گرفتار
این سی سی آئی اے نے لاہور میں مختلف کارروائیوں کے دوران گرفتاریاں کیں، مصنوعی ذہانت سے جعلی دستاویزات بنانے اور غیر قانونی آن لائن بیٹنگ کے نیٹ ورکس کا بھی انکشاف۔
AI Generated
لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے لاہور میں مختلف کارروائیوں کے دوران بچوں کے آن لائن استحصال، بلیک میلنگ، مالیاتی فراڈ اور غیر قانونی آن لائن بیٹنگ میں مبینہ طور پر ملوث 10 افراد کو گرفتار کرلیا۔ حکام کے مطابق کارروائیوں میں کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے پیر کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایک کارروائی میں ایسے شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جس پر بیرون ملک مقیم کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے بلیک میل کرنے اور ان کے جنسی استحصال کا الزام ہے۔
عاطف امیر کے مطابق زیر حراست شخص مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر جعلی شناخت اختیار کرکے بچوں سے رابطہ کرتا، ان کا اعتماد حاصل کرتا اور بعد میں انہیں قابل اعتراض مواد تیار کرنے پر مجبور کرتا تھا۔ اس کے بعد وہ مواد انٹرنیٹ پر پھیلانے کی دھمکیاں دے کر انہیں بلیک میل کرتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم کی شناخت اور سرگرمیوں کا سراغ لگانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے نظام سے مدد لی گئی۔ تکنیکی تجزیے کے بعد متعلقہ عدالت سے سرچ وارنٹ حاصل کیا گیا اور کارروائی کے دوران ایک لیپ ٹاپ اور موبائل فون قبضے میں لیا گیا۔ دونوں آلات کا فرانزک معائنہ جاری ہے۔
ایک دوسری کارروائی میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے تین طلبہ کو گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق ان افراد پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے کینیڈا کے جعلی شناختی دستاویزات اور پاسپورٹ تصاویر تیار کرنے کا الزام ہے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر کے مطابق یہ جعلی دستاویزات کینیڈا میں بینک اکاؤنٹس کھلوانے اور آن لائن مالیاتی دھوکا دہی کے لیے استعمال کی جارہی تھیں۔ کارروائی میں چار لیپ ٹاپ، چار موبائل فون اور کینیڈین پاسپورٹس کی جعلی پرنٹ شدہ نقول برآمد کی گئیں۔
لاہور کے علاقے ایل ڈی اے سٹی میں بھی مالیاتی فراڈ کے ایک مقدمے میں دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ حکام نے گرفتار افراد کی شناخت واجد علی جعفری اور امن علی کے نام سے بتائی ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق دونوں افراد کے قبضے سے ادائیگی کے لیے استعمال ہونے والی پانچ پوائنٹ آف سیل مشینیں اور چار موبائل فون برآمد ہوئے۔ اس معاملے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ مشینوں کی مبینہ فراہمی میں ملوث نجف نامی ایک اور شخص کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
اسی سلسلے میں لاہور کے بحریہ ٹاؤن میں چھاپہ مار کر غیر قانونی آن لائن بیٹنگ نیٹ ورک سے مبینہ تعلق رکھنے والے چار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیشی حکام نے ایک کمپیوٹر، ایک لیپ ٹاپ اور چھ موبائل فون قبضے میں لے لیے ہیں۔
عاطف امیر نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس نیٹ ورک کے ذریعے آن لائن بیٹنگ گیمز اور خصوصی پیشکشوں کے نام پر امریکی شہریوں کو مالی نقصان پہنچایا جاتا تھا۔ حکام نے نیٹ ورک کے مبینہ سربراہ کی شناخت زعیم کے نام سے ظاہر کی ہے، جو تاحال گرفتار نہیں ہوسکا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق مختلف کارروائیوں میں تحویل میں لیے گئے ڈیجیٹل آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ جاری ہے، تاکہ مشتبہ افراد کی سرگرمیوں، ممکنہ رابطوں اور مالیاتی لین دین سے متعلق مزید شواہد حاصل کیے جاسکیں۔
حکام کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 10 افراد گرفتار ہوئے ہیں۔ بچوں کے مبینہ آن لائن استحصال کے مقدمے میں ایک، جعلی دستاویزات کے معاملے میں تین، ادائیگی کارڈ فراڈ میں دو اور غیر قانونی بیٹنگ نیٹ ورک کے سلسلے میں چار گرفتاریاں کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ گرفتار افراد کے خلاف الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔ کسی بھی شخص کے جرم کا حتمی تعین متعلقہ عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر ہوگا۔





