کراچی میں ایک ہفتے کے دوران 42 پولیس مقابلے، 894 سے زائد ملزمان گرفتار

پولیس کے مطابق مقابلوں میں 6 مبینہ ڈاکو ہلاک اور 38 زخمی ہوئے، اسلحہ، منشیات اور موٹر سائیکلیں برآمد؛ جرائم کی مجموعی صورتحال پر تشویش برقرار۔

کراچی میں ایک ہفتے کے دوران 42 پولیس مقابلے، 894 سے زائد ملزمان گرفتار

کراچی: شہر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس کارروائیوں کی ہفتہ وار تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پولیس کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مختلف علاقوں میں 42 مقابلے ہوئے، جن میں 6 مبینہ ڈاکو ہلاک جبکہ 57 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

کراچی پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ مقابلوں کے دوران گرفتار ہونے والے 57 ملزمان میں سے 38 زخمی حالت میں پکڑے گئے۔ پولیس نے شہر بھر میں دیگر کارروائیوں کے دوران بھی بڑی تعداد میں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔

ترجمان کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 894 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ مختلف کارروائیوں میں لاکھوں روپے مالیت کی منشیات، مختلف اقسام کے 150 غیر قانونی ہتھیار اور 44 موٹر سائیکلیں برآمد کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کے خلاف متعلقہ مقدمات درج کرلیے گئے ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔ تاہم گرفتاریوں کی تعداد سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ کتنے افراد پر الزامات عدالت میں ثابت ہوئے ہیں۔

کراچی میں پولیس کی کارروائیوں کے یہ اعدادوشمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب شہریوں کو اسٹریٹ کرائم اور دیگر جرائم سے متعلق مسلسل خدشات کا سامنا ہے۔ سرکاری ریکارڈ اور شہری نگرانی کے اداروں کی رپورٹس سے جرائم کی صورتحال کی مختلف جہتیں سامنے آتی ہیں۔

سینٹرل پولیس آفس سندھ کے اعدادوشمار کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران کراچی میں قابلِ دست اندازی پولیس جرائم کے 16 ہزار 463 مقدمات ریکارڈ کیے گئے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 0.49 فیصد زیادہ تھی۔

اسی سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال کی پہلی ششماہی کے دوران مجموعی اسٹریٹ کرائم میں 11.77 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم اس عرصے میں قتل کے 264 واقعات سامنے آئے، جن میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل ہونے والے 40 افراد بھی شامل تھے۔

پولیس کے خلاف حملوں کی تعداد میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2025 کی پہلی ششماہی میں ایسے 337 واقعات ہوئے تھے، جبکہ 2026 کے اسی عرصے میں یہ تعداد بڑھ کر 572 ہوگئی۔

دوسری جانب شہریوں اور پولیس کے درمیان رابطے کے ادارے سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) کے اعدادوشمار کے مطابق جنوری سے مئی 2026 تک کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے 24 ہزار 195 واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ اعدادوشمار مختلف مدت اور طریقۂ شمار سے متعلق ہیں، اس لیے انہیں پولیس کی پہلی ششماہی کی مجموعی تعداد کے براہِ راست متبادل کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔

سی پی ایل سی کی رپورٹ میں مئی کے دوران فائرنگ اور دیگر پُرتشدد واقعات میں 56 افراد کی ہلاکت بھی ریکارڈ کی گئی۔ یہ تعداد صرف ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ہونے والی ہلاکتوں کی نہیں بلکہ مختلف نوعیت کے پُرتشدد واقعات کی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ایک جائزہ اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں سنگین جرائم، دہشت گردی سے متعلق واقعات اور اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اجلاس میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق اس عرصے میں پولیس کے 2 ہزار 184 مقابلے ہوئے، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ تعداد ایک ہزار 574 تھی۔

ادھر کراچی کی کاروباری برادری بھی شہر کی مجموعی صورتحال پر تشویش ظاہر کرچکی ہے۔ بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے 11 اکتوبر کو شہر کے بنیادی ڈھانچے، پانی کی قلت، بجلی اور دیگر سہولیات کے مسائل کے ساتھ اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

پولیس کی تازہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرائم کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، تاہم شہر میں امن و امان کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے گرفتاریوں اور مقابلوں کی تعداد کے ساتھ جرائم کی شرح، مقدمات کی پیش رفت اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق اعدادوشمار کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔

خبر شیئر کریں: