کوئٹہ میں خاتون ٹیچر کو ہراساں کرنے کا الزام، نجی اسکول کا وائس پرنسپل گرفتار
این سی سی آئی اے نے بلیک میلنگ اور مبینہ جنسی ہراسانی کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
AI Generated
کوئٹہ: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کوئٹہ میں ایک خاتون ٹیچر کو مبینہ طور پر جنسی ہراسانی اور بلیک میلنگ کا نشانہ بنانے کے الزام میں نجی اسکول کے وائس پرنسپل کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔
این سی سی آئی اے کوئٹہ کے مطابق کارروائی ایک خاتون ٹیچر کو ہراساں کرنے اور بلیک میل کرنے کے معاملے پر کی گئی، جس میں نجی تعلیمی ادارے کے وائس پرنسپل کو نامزد کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق این سی سی آئی اے کے انکوائری آفیسر محمد طارق خان کی سربراہی میں ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم گوہر خان ولد فضل کو گرفتار کیا۔
حکام نے بتایا کہ گرفتار شخص کوئٹہ کے ایک نجی اسکول میں وائس پرنسپل کے عہدے پر فائز ہے اور اس پر خاتون ٹیچر کو مبینہ طور پر ہراساں اور بلیک میل کرنے کا الزام ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ تاہم جاری کردہ تفصیلات میں مقدمے کی دفعات، مبینہ ہراسانی کے طریقہ کار اور شکایت کے دیگر شواہد کی وضاحت نہیں کی گئی۔
حکام نے خاتون ٹیچر کی شناخت ظاہر نہیں کی، جبکہ دستیاب بیان میں گرفتار ملزم کا مؤقف بھی سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ ملزم کی گرفتاری اور مقدمے کے اندراج کا مطلب الزامات ثابت ہونا نہیں ہے۔ الزامات کا حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت میں قانونی کارروائی اور شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔





