بلوچستان کے دو اضلاع سے 7 افراد کی لاشیں برآمد، مقتولین میں دو سگے بھائی بھی شامل
پنجگور میں پانچ افراد کی شناخت نہ ہوسکی، بارکھان میں مبینہ اغوا کے آٹھ روز بعد دو بھائیوں کی لاشیں مل گئیں، پولیس نے تحقیقات شروع کردیں۔
کوئٹہ: بلوچستان کے اضلاع پنجگور اور بارکھان سے مجموعی طور پر سات افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ مقتولین میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں، جنہیں مبینہ طور پر مسلح افراد نے اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا۔ دونوں اضلاع میں پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم ملزمان اور قتل کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔
پولیس کے مطابق پنجگور کے علاقے سے پانچ نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں، جن پر گولیوں کے نشانات موجود تھے۔ لاشوں کو شناخت اور ضروری قانونی کارروائی کے لیے ضلعی ٹیچنگ اسپتال پنجگور منتقل کردیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق پانچوں مقتولین کی شناخت نہیں ہوسکی، جبکہ ان کے قتل کے مقام، وقت اور محرکات سے متعلق بھی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ پولیس لاشوں کی شناخت اور واقعے کے حالات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔
دوسری جانب ضلع بارکھان میں دو سگے بھائیوں کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق دونوں بھائی سفر کر رہے تھے کہ مسلح افراد نے انہیں مبینہ طور پر اغوا کرلیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اغواکاروں نے دونوں بھائیوں کو تقریباً آٹھ روز تک اپنی تحویل میں رکھنے کے بعد قتل کردیا، جس کے بعد ان کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ تاہم اغوا اور قتل میں ملوث افراد کی شناخت اور واقعے کے پس پردہ محرکات کے بارے میں مصدقہ معلومات سامنے نہیں آسکیں۔
بارکھان میں پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے یہ بھی واضح نہیں ہوسکا کہ دونوں بھائیوں کو کس مقام سے اغوا کیا گیا تھا اور ان کی لاشیں کن حالات میں برآمد ہوئیں۔ ان تفصیلات کے تعین کے لیے پولیس کی تحقیقات اہم ہوں گی۔
پنجگور اور بارکھان میں لاشوں کی برآمدگی کے واقعات نے دونوں اضلاع میں امن و امان اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق سوالات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔
تاہم پولیس کی جانب سے اب تک ایسی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی کہ دونوں اضلاع میں ہونے والی ہلاکتوں کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا ان واقعات میں ایک ہی گروہ ملوث ہے۔
پولیس کے لیے اس وقت اہم مرحلہ مقتولین کی شناخت، قتل کی وجوہات کا تعین اور واقعات میں ملوث افراد کا سراغ لگانا ہے۔ بالخصوص پنجگور سے ملنے والی پانچ نامعلوم لاشوں کی شناخت سے تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔
دونوں واقعات میں مجموعی طور پر سات افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم کسی مخصوص تنظیم یا گروہ نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کی مصدقہ اطلاع دستیاب نہیں۔
پولیس کی مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی واضح ہوسکے گا کہ ان افراد کو کن حالات میں قتل کیا گیا اور واقعات کے پیچھے کون سے عناصر ملوث تھے۔




