امریکا ایران مذاکرات میں تعطل، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا اہم دورۂ تہران متوقع
رائٹرز کے مطابق پاکستانی عہدیدار اور ایرانی میڈیا نے دورے کی اطلاع دی، ایرانی قیادت سے علاقائی کشیدگی، دوطرفہ تعاون اور سفارتی کوششوں پر بات چیت متوقع ہے۔
اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں تعطل کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے آج منگل کو ایران کے دارالحکومت تہران کے دورے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک پاکستانی عہدیدار اور ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ تہران طے شدہ پروگرام کا حصہ ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں ان کی تہران آمد یا ایرانی حکام سے ملاقاتوں کی تکمیل کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق متوقع ملاقاتوں میں پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات، علاقائی سلامتی اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان رواں سال واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں سرگرم رہا ہے۔ فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونے والے تنازع نے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی تجارت کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کیے تھے۔
اس سے قبل فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایرانی قیادت سے ملاقاتوں میں بھی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے، آبنائے ہرمز میں آمدورفت بحال کرنے اور جاری تنازع کے خاتمے کے لیے اقدامات زیر بحث آئے تھے۔ مجوزہ دورے کو انہی رابطوں کا تسلسل سمجھا جارہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کی بحالی میں بنیادی رکاوٹ مذاکرات کی شرائط پر اختلافات ہیں۔ تہران اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے، تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی اور علاقائی محاذوں پر جنگی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کررہا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن ایرانی جوہری پروگرام کو مذاکرات کا مرکزی موضوع بنانا چاہتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی تجویز بدستور موجود ہے، تاہم اس سلسلے میں پیش رفت کا انحصار امریکی ردعمل پر ہوگا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اس کی بندش یا آمدورفت میں رکاوٹ سے تیل کی عالمی منڈی اور خطے کی معاشی سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کو امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کو دوحہ میں گلوبل سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان پائیدار امن کے لیے صبر، باہمی اعتماد اور مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کسی ایک ملاقات سے تمام اختلافات ختم ہونے کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ انہوں نے قطر کے سفارتی کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اور دوحہ نے علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے رابطے برقرار رکھے۔
مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب سے متعلق سیکیورٹی خدشات کے باعث بھی پیچیدہ ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کی جانب سے ایران کے ساتھ اعلیٰ سطح کے رابطوں کو علاقائی امن کی کوششوں کا حصہ سمجھا جارہا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے متوقع دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور ان کے نتائج سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ تاحال دستیاب معلومات کے مطابق دورہ متوقع ہے، اس لیے اسے مکمل شدہ سفارتی سرگرمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔





