ایل پی جی کی قیمتیں بے قابو، بعض علاقوں میں 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئیں
اوگرا کا مقررہ نرخ 279 روپے فی کلو، پہاڑی علاقوں میں گھریلو سلنڈر 7200 روپے میں فروخت، ڈسٹری بیوٹرز کا فوری اقدامات کا مطالبہ۔
اسلام آباد: ملک کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ سامنے آیا ہے، بعض پہاڑی علاقوں میں فی کلو قیمت 600 روپے تک پہنچ گئی، جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی گیس سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کے مطابق ملک میں ایل پی جی کی فروخت کی قیمتیں تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں صارفین کو ایک کلو ایل پی جی کے لیے 600 روپے تک ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔
عرفان کھوکھر نے بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں گھریلو استعمال کا ایل پی جی سلنڈر 7 ہزار 200 روپے تک فروخت ہورہا ہے، جس سے ان علاقوں کے رہائشیوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
ان کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ایل پی جی کی قیمت 500 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جبکہ گھریلو سلنڈر تقریباً 6 ہزار روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر کے لیے ایل پی جی کی فی کلو قیمت تقریباً 279 روپے اور گھریلو سلنڈر کی قیمت تقریباً 3 ہزار 350 روپے مقرر کر رکھی ہے۔ اس طرح بعض علاقوں میں ایل پی جی سرکاری نرخ کے مقابلے میں نمایاں اضافے کے ساتھ فروخت ہورہی ہے۔
فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق پہاڑی علاقوں میں فی کلو ایل پی جی کی فروخت کی قیمت سرکاری نرخ سے تقریباً 321 روپے زیادہ ہے، جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بتائی گئی قیمت اور مقررہ نرخ کے درمیان تقریباً 221 روپے کا فرق موجود ہے۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ خدشہ ہے، قیمتوں میں مزید اضافے کا حتمی اعلان نہیں۔
عرفان کھوکھر نے ایل پی جی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے حکومتی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گیس کی دستیابی بہتر بنانے اور مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ حکومت اپنے ایس ایس جی سی ٹرمینل کو استعمال میں لائے اور ایل پی جی کی فوری درآمد کا انتظام کرے تاکہ مارکیٹ میں رسد بڑھائی جاسکے اور قیمتوں پر دباؤ کم ہو۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے اوگرا کے کردار پر بھی تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ مقررہ قیمتوں سے زائد وصولیوں کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں ہورہی۔ تاہم ان الزامات پر ریگولیٹری اتھارٹی کا مؤقف متعلقہ رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں یہ اضافہ بالخصوص ان علاقوں کے صارفین کے لیے اہم ہے جہاں گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے سلنڈر گیس استعمال کی جاتی ہے۔ ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اور مارکیٹ نرخوں میں بڑھتے ہوئے فرق کو ختم کرنے کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔





