ایف بی آر میں بدعنوان عناصر کی کوئی جگہ نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم نے ایف بی آر اصلاحات تیز کرنے کی ہدایت کردی، اجلاس میں ٹیکس گیپ کا تخمینہ جی ڈی پی کے 6 سے کم ہوکر 5 فیصد رہنے سے آگاہ کیا گیا۔

ایف بی آر میں بدعنوان عناصر کی کوئی جگہ نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جاری اصلاحات کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ادارے میں بدعنوانی اور مسلسل ناقص کارکردگی دکھانے والے عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور اور اصلاحاتی اقدامات کا ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹیکس وصولیوں کے نظام، ادارہ جاتی کارکردگی اور اصلاحات کے اب تک سامنے آنے والے نتائج کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے ابتدائی نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا اور ہدایت کی کہ ٹیکس گیپ کم کرنے کے لیے ادارے کی استعداد کار میں مسلسل اضافہ کیا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر میں جاری اصلاحات ریاست کے وسیع تر مفاد میں ہیں، اس لیے ان پر عمل درآمد ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے ادارے میں بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے کی ہدایت بھی کی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایسے افسران اور اہلکار جو اپنے رویے اور کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے تیار ہیں، انہیں اصلاح کا موقع دیا جائے۔ تاہم بدعنوانی میں ملوث رہنے یا مسلسل ناقص کارکردگی دکھانے والے افراد کے لیے ادارے میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے ٹیکس وصولیوں سے متعلق شعبوں میں فیس لیس نظام کے نفاذ کی رفتار بڑھانے کی ہدایت کی۔ اس نظام کا مقصد ٹیکس دہندگان اور متعلقہ عملے کے درمیان براہ راست رابطے کی ضرورت کم کرکے انتظامی طریقہ کار کو بہتر بنانا ہے۔

اجلاس کے شرکا کو ایف بی آر میں جاری اصلاحات کی پیش رفت اور اب تک حاصل ہونے والے نتائج سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں ٹیکس گیپ کا تخمینہ مجموعی ملکی پیداوار کے 6 فیصد سے کم ہوکر 5 فیصد رہ گیا ہے۔

ٹیکس گیپ سے مراد وہ فرق ہے جو قوانین کے مطابق ممکنہ ٹیکس وصولیوں اور عملی طور پر جمع ہونے والے ٹیکس کے درمیان موجود ہوتا ہے۔ اجلاس میں پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس فرق میں ایک فیصد پوائنٹ کی کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اصلاحات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے، ٹیکس وصولیوں کے طریقہ کار میں بہتری لانے اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات پر توجہ برقرار رکھی جائے۔

اجلاس میں پیش کردہ ٹیکس گیپ کے اعدادوشمار حکومتی بریفنگ پر مبنی ہیں۔ دستیاب اعلامیے میں اس تخمینے کے حساب کا طریقہ کار یا اس کی آزادانہ جانچ کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

خبر شیئر کریں: