اسرائیل سے آسٹریا جانے والے طیارے میں بم کی اطلاع، جنگی طیاروں کی نگرانی میں ہنگامی لینڈنگ
آسٹرین ایئرلائنز کی پرواز میں 51 مسافر اور عملے کے 6 ارکان سوار تھے، بلغاریہ کی فضائیہ نے لڑاکا طیارہ روانہ کیا، مسافروں کو بحفاظت اتار لیا گیا۔
صوفیہ: اسرائیل سے آسٹریا جانے والے مسافر طیارے میں بم کی اطلاع ملنے پر پرواز کا رخ اچانک تبدیل کرکے بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔ طیارے میں 51 مسافر اور عملے کے 6 ارکان سوار تھے، جنہیں بحفاظت اتار لیا گیا۔
بلغاریہ کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق آسٹرین ایئرلائنز کی پرواز او ایس 82 اسرائیلی شہر تل ابیب سے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا جارہی تھی کہ دوران پرواز عملے کو بم سے متعلق خطرے کی اطلاع موصول ہوئی۔
حکام نے بتایا کہ ایئربس اے 320 طیارہ رومانیہ کی سرحد کے قریب پہنچ چکا تھا جب عملے نے سیکیورٹی خدشے کے پیش نظر پرواز کا رخ بلغاریہ کی جانب موڑنے کا فیصلہ کیا۔
بم کی اطلاع ملنے کے بعد بلغاریہ کی فضائیہ کو بھی متحرک کردیا گیا۔ وزارت دفاع کے مطابق ایک مگ 29 لڑاکا طیارہ روانہ کیا گیا، جس نے مسافر طیارے کو صوفیہ کے ہوائی اڈے تک حفاظتی نگرانی میں پہنچایا۔
پرواز کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق طیارے نے ہنگامی صورتحال ظاہر کرنے والا خصوصی کوڈ 7700 بھی نشر کیا۔ یہ کوڈ فضائی ٹریفک کنٹرول کو بتاتا ہے کہ پرواز کو فوری مدد یا ترجیحی توجہ درکار ہے۔
طیارے کی بحفاظت لینڈنگ کے بعد مسافروں اور عملے کو باہر نکالا گیا، جبکہ متعلقہ سیکیورٹی اداروں نے جہاز اور اس میں موجود سامان کی تلاشی شروع کردی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے میں نوجوانوں کا ایک وفد بھی موجود تھا جو اقوام متحدہ میں خطاب کے لیے سفر کررہا تھا۔ تاہم وفد کے ارکان اور ان کے پروگرام سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
آسٹرین ایئرلائنز نے بتایا کہ طیارے کی سیکیورٹی جانچ کے بعد مسافروں کے لیے متبادل سفری انتظامات کیے جائیں گے۔ بلغاریہ کے حکام نے واقعے کی تحقیقات کے لیے متعلقہ اداروں کو متحرک کردیا۔
بعد میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق طیارے اور سامان کی تلاشی میں پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت لگا، تاہم کسی دھماکا خیز مواد کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی۔ مقامی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کلیئرنس کے بعد پرواز دوبارہ ویانا کے لیے روانہ ہوگئی۔
حکام نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ بم کی اطلاع کس ذریعے سے دی گئی تھی اور آیا اس کے پیچھے کوئی حقیقی خطرہ موجود تھا یا یہ جھوٹی اطلاع تھی۔ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کی گئیں۔
بلغاریہ کی وزارت ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری ابتدائی معلومات میں کسی مسافر کے زخمی ہونے یا طیارے کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں دی گئی۔





