خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی ختم ہوگی یا مذاکرات؟ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے شرط رکھ دی

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی ختم کرنے اور ملاقات کے لیے غیر جانب دار مقام مقرر کرنے کی شرائط مسترد، اپوزیشن لیڈر کو وزیراعظم ہاؤس آنے کی دعوت۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی ختم ہوگی یا مذاکرات؟ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے شرط رکھ دی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی واپس لینے کی پیشگی شرط مسترد کردی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کرے تو اس کے ساتھ بات چیت ممکن ہے۔

رانا ثناء اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت سیاسی معاملات پر مذاکرات سے انکار نہیں کررہی، تاہم خیبرپختونخوا میں نافذ ایمرجنسی ختم کرنے کو بات چیت کی لازمی شرط بنانا قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف تعاون ایک ایسا معاملہ ہے جس پر تحریک انصاف کے ساتھ گفتگو کی گنجائش موجود ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیراعظم سے ملاقات کے لیے کسی تیسرے مقام کے انتخاب کی شرط بھی مسترد کردی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہی ہوگی اور اس کے لیے کوئی متبادل مقام مقرر نہیں کیا جائے گا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کسی فرد کی ذاتی رہائش یا ملکیت نہیں بلکہ ریاستی ادارہ ہے۔ ان کے مطابق اس مقام پر ملاقات سے گریز کے لیے پیش کی جانے والی شرائط غیر ضروری ہیں اور حکومت اس نوعیت کے مطالبات قبول نہیں کرے گی۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی ملاقاتوں اور مذاکرات کے لیے ایسی شرائط سامنے آتی رہی ہیں، تاہم سیاسی معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے غیر ضروری اصرار مناسب طریقہ نہیں۔

وزیراعظم کے مشیر نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے معاملے پر بھی اہم تفصیلات بتائیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اس سلسلے میں قائد حزب اختلاف کو دو خطوط لکھ چکے ہیں، تاہم حکومت کو ابھی تک جواب موصول نہیں ہوا۔

رانا ثناء اللہ نے اپوزیشن لیڈر سے سوال کیا کہ وہ وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے لیے کب آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئینی تقرریوں سے متعلق مشاورت کے لیے رابطہ کیا ہے اور اب اپوزیشن کی جانب سے جواب کا انتظار کیا جارہا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے لیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت آئینی عمل کا اہم حصہ ہے۔ اس لیے دونوں شخصیات کے درمیان رابطے اور ملاقات کا معاملہ محض سیاسی مذاکرات تک محدود نہیں بلکہ اہم آئینی تقرریوں سے بھی متعلق ہے۔

حکومتی مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی اختلافات میں شدت آئی ہے۔ ایمرجنسی کے خاتمے کا معاملہ دونوں جانب رابطوں اور ممکنہ مذاکرات میں ایک اہم اختلافی نکتہ بن چکا ہے۔

حکومت کی جانب سے تازہ بیان میں دو معاملات کو واضح طور پر الگ رکھا گیا ہے۔ ایک طرف خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی ختم کرنے کی پیشگی شرط قبول کرنے سے انکار کیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب دہشت گردی کے خلاف تعاون کی بنیاد پر تحریک انصاف کے ساتھ بات چیت کا امکان برقرار رکھا گیا ہے۔

اسی طرح محمود خان اچکزئی اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات کے لیے مقام کا تنازع بھی برقرار ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق آئینی مشاورت اور سیاسی رابطوں کے لیے وزیراعظم ہاؤس ہی مناسب مقام ہے، جبکہ کسی تیسرے مقام کی شرط قبول نہیں کی جائے گی۔

رانا ثناء اللہ کے بیان کے بعد اب توجہ اپوزیشن کے ردعمل پر مرکوز ہے کہ آیا تحریک انصاف اور قائد حزب اختلاف حکومت کی پیش کردہ شرائط کے تحت بات چیت آگے بڑھاتے ہیں یا اپنے پہلے سے پیش کردہ مطالبات پر قائم رہتے ہیں۔ فی الحال مذاکرات کی کسی نئی تاریخ یا باقاعدہ اجلاس کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ماخذ: وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کا 18 اکتوبر 2026 کو رپورٹ ہونے والا بیان۔

خبر شیئر کریں: