چاغی کے علاقے دالبندین میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس آپریشن، 2 مبینہ دہشت گرد ہلاک
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک افراد کوئٹہ تفتان شاہراہ پر مسافر بسوں اور تجارتی گاڑیوں کو نذرآتش کرنے میں ملوث تھے، ردالفتنہ 3 کے تحت کارروائیاں جاری
چاغی: بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے دو مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن میں ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں مطلوب افراد کی موجودگی کی اطلاع تھی۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کوئٹہ تفتان شاہراہ پر مسافروں کو ہراساں کرنے، گاڑیوں کو آگ لگانے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ ان کے خلاف کارروائی علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کی گئی۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد مسافر بسوں اور تجارتی سامان لے جانے والی گاڑیوں کو نشانہ بناتے تھے، جس سے نہ صرف شہریوں کی جان و مال کو خطرات لاحق تھے بلکہ شاہراہ پر تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی تھیں۔
کوئٹہ تفتان شاہراہ بلوچستان کی اہم تجارتی اور سفری گزرگاہوں میں شامل ہے۔ یہ راستہ پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی رابطے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ مقامی آبادی اور تجارتی گاڑیوں کی آمدورفت بھی اسی شاہراہ سے وابستہ ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق شاہراہ پر مسافر اور تجارتی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی سرگرمیوں کے باعث شہریوں میں عدم تحفظ پیدا ہورہا تھا۔ ان کے بقول ایسے عناصر کے خلاف کارروائیوں کا مقصد مسافروں کی حفاظت اور تجارتی آمدورفت کو محفوظ بنانا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دالبندین میں ہونے والی کارروائی کو بھی اسی سلسلے کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کے قیام، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور اہم شاہراہوں پر آمدورفت کو محفوظ بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کو روکنا اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ان کارروائیوں کے بنیادی مقاصد ہیں۔
دالبندین میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت اور آپریشن میں برآمد ہونے والے اسلحے یا دیگر سامان سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ واقعے کی آزادانہ تصدیق بھی تاحال سامنے نہیں آئی۔





