افغانستان سے غیر مشروط مذاکرات نہیں ہوں گے، دفتر خارجہ

پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشت گرد حملے روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کردیا، روسی ثالثی کی باضابطہ تجویز زیر غور ہونے کی بھی تردید

افغانستان سے غیر مشروط مذاکرات نہیں ہوں گے، دفتر خارجہ

اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کا امکان مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اسی صورت آگے بڑھ سکتی ہے جب افغان طالبان اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان افغانستان سے مذاکرات سے انکار نہیں کررہا اور نہ ہی بات چیت کے دروازے بند کیے گئے ہیں، تاہم مذاکرات کا مقصد صرف ملاقاتیں کرنا نہیں بلکہ سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے کا عملی حل تلاش کرنا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ واضح ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہونی چاہییں اور اس کے لیے ایسا طریقہ کار طے کیا جائے جس سے زمینی صورتحال کی تصدیق ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف عالمی اور علاقائی فورمز پر افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کا معاملہ اٹھاتا رہا ہے، لیکن بدقسمتی سے افغان طالبان اس مسئلے پر مستقل اور واضح مؤقف اختیار کرنے کے بجائے کبھی ایک قدم آگے اور کبھی ایک قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

سجاد حیدر خان کے مطابق پاکستان افغانستان کے نمائندوں سمیت تمام متعلقہ فریقوں سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اگر دوست ممالک پاکستان کے جائز سیکیورٹی خدشات دور کرنے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرتے ہیں تو اسلام آباد ان کا خیرمقدم کرے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی سفارتی کوشش کا نتیجہ عملی پیش رفت کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی اور اس کی تصدیق مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہوگی۔

افغانستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے روس کی ممکنہ ثالثی سے متعلق سوال پر ترجمان نے بتایا کہ اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان کسی الگ اور باضابطہ روسی ثالثی کی تجویز پر بات چیت نہیں ہورہی۔ تاہم پاکستان ایسی کوششوں کے لیے تیار ہے جو حقیقی نتائج دے سکیں۔

روس نے حالیہ دنوں میں دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی تھی۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان دونوں درخواست کریں تو وہ مذاکرات میں سہولت فراہم کرسکتا ہے۔

روس کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے بھی اس ماہ کے آغاز میں ثالثی کی پیشکش کی تھی۔ یہ پیش رفت پانچ اکتوبر کو ہونے والے ماسکو فارمیٹ اجلاس کے بعد سامنے آئی، جہاں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان اختلافات کے باعث مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوسکا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ماسکو اجلاس میں افغان وفد نے دہشت گرد گروہوں کی افغانستان میں موجودگی سے متعلق وہ مؤقف قبول نہیں کیا جو گزشتہ سال کے مشترکہ اعلامیے میں شامل تھا۔ ان کے مطابق اسی اختلاف کی وجہ سے اس مرتبہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ بیان جاری نہ کیا جاسکا۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر مسلح گروہ افغان سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ اسلام آباد مسلسل مطالبہ کررہا ہے کہ افغان طالبان ان گروہوں کی پناہ گاہوں، تربیتی مراکز اور سرحد پار کارروائیوں کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔

دوسری جانب افغان طالبان پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہورہی ہے۔ کابل کا مؤقف ہے کہ افغانستان کسی دوسرے ملک کے خلاف مسلح سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور دہشت گردی کے مسئلے پر گزشتہ برس بھی متعدد سفارتی کوششیں ہوئیں۔ قطر اور ترکیہ کی کوششوں سے جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، لیکن بعد کے مذاکرات مستقل حل تک نہیں پہنچ سکے۔

سعودی عرب نے بھی دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی میزبانی کی، جبکہ چین نے اپریل میں ارومچی میں مذاکرات کرائے۔ تاہم دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی اور ان کارروائیوں کی تصدیق کے معاملے پر بنیادی اختلاف برقرار رہا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بریفنگ میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان پر بھی سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کی دھمکی خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

سجاد حیدر خان نے بھارتی وزیر دفاع کے بیان کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

بھارتی وزیر دفاع نے نئی دہلی میں نیشنل ڈیفنس کانکلیو 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مستقبل میں کسی دہشت گرد حملے کی صورت میں بھارت پہلے سے زیادہ بڑی کارروائی کرسکتا ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال کے فوجی آپریشن سندور کا بھی حوالہ دیا تھا۔

پاکستانی ترجمان نے کہا کہ بھارت کو مئی 2025 میں ہونے والی فوجی کشیدگی سے سبق سیکھنا چاہیے، جب پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا عملی مظاہرہ کیا تھا۔

انہوں نے بھارتی قیادت پر زور دیا کہ وہ دھمکی آمیز بیانات اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کرے اور جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے۔

افغانستان کے معاملے پر پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ بات چیت اور علاقائی تعاون کا حامی ہے، لیکن مذاکرات میں پیش رفت کے لیے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کا خاتمہ اور اس کی قابلِ اعتماد تصدیق بنیادی شرط رہے گی۔

خبر شیئر کریں: