کرم میں پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپیں، دراندازی کی کوشش ناکام
پاکستانی سیکیورٹی حکام کے مطابق توپ خانے کی مدد سے افغان طالبان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا، سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے متعدد عسکریت پسند بھی مارے گئے۔
AI Generated
اسلام آباد: خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان مختلف مقامات پر شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی حکام کے مطابق جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب افغانستان سے مسلح عسکریت پسندوں نے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
ہفتہ 17 اکتوبر کو پیش آنے والی ان جھڑپوں کے دوران پاکستانی فورسز نے توپ خانے کی مدد سے افغان طالبان کی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستانی حکام اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کارروائی میں بعض چوکیوں کو تباہ کیا گیا، تاہم ان کی تعداد اور نقصان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
تین پاکستانی سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ ضلع کرم کے سرحدی علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تفصیلات فراہم کیں کیونکہ انہیں ذرائع ابلاغ سے باضابطہ گفتگو کی اجازت نہیں تھی۔
حکام کے مطابق جھڑپوں کے دوران افغانستان کے مشرقی حصے کے ایک دور افتادہ علاقے سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی حکام نے متعدد عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع دی، لیکن ان کی درست تعداد نہیں بتائی۔
واقعے کے فوری بعد افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے جھڑپوں یا پاکستانی حکام کے بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ اس لیے سرحدی چوکیوں کو پہنچنے والے نقصان اور عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
یہ تازہ جھڑپیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی کے دوران ہوئی ہیں۔ رواں سال دونوں ممالک کی سرحد پر متعدد مرتبہ مسلح تصادم ہوچکا ہے، جبکہ افغانستان کے اندر پاکستانی فضائی کارروائیوں کے بعد بھی تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عناصر سرحد عبور کرکے پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں پر حملے کرتے ہیں۔ اسلام آباد طویل عرصے سے افغان حکام سے مطالبہ کررہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔
دوسری جانب افغانستان کی طالبان حکومت پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے کہ وہ پاکستانی عسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کررہی ہے۔ کابل کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی سرپرستی نہیں کی جارہی۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور افغانستان کی حکمران طالبان تحریک الگ تنظیمیں ہیں، تاہم دونوں کے درمیان نظریاتی اور تاریخی روابط موجود ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی 2021 میں دوبارہ حکومت قائم ہونے کے بعد پاکستان مسلسل سرحد پار عسکریت پسندوں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کرتا رہا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق رواں سال جنوری سے اب تک ملک بھر میں عسکریت پسندی کے 2 ہزار 800 سے زیادہ حملے ہوئے ہیں۔ حکام نے ان واقعات میں تقریباً 3 ہزار افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کے اعدادوشمار پیش کیے ہیں، جبکہ زیادہ تر واقعات خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں رپورٹ ہوئے۔
سرحدی کشیدگی کے انسانی اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے ستمبر میں بتایا تھا کہ رواں سال پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار تشدد کے نتیجے میں افغانستان میں شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے مجموعی طور پر ایک ہزار 100 سے زیادہ واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کا اثر صرف سیکیورٹی اداروں تک محدود نہیں بلکہ سرحدی علاقوں کی شہری آبادی بھی اس سے متاثر ہورہی ہے۔
اس سے قبل 12 اکتوبر کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والے مسلح گروہوں کو روکے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اچھے ہمسایہ تعلقات کے لیے دونوں ممالک کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور معمول کے تعلقات کی خواہاں ہے، تاہم دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کو ضروری سمجھتی ہے۔ افغان طالبان حکومت اس معاملے پر پاکستانی الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
ضلع کرم میں تازہ جھڑپوں کے بعد سرحدی صورتحال ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ پاکستانی حکام نے دراندازی ناکام بنانے اور افغان طالبان کی چوکیوں کو نقصان پہنچانے کی اطلاع دی ہے، تاہم ہلاکتوں کی حتمی تعداد اور دوسری جانب ہونے والے نقصانات کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
ماخذ: 17 اکتوبر کی سرحدی جھڑپوں کی رپورٹ اور 12 اکتوبر کا متعلقہ سفارتی پس منظر۔ پاکستانی فورسز کی کارروائیوں اور نقصانات کی تفصیلات متعلقہ حکام سے منسوب ہیں۔





