ایران کی سعودی عرب اور حوثیوں میں ثالثی کی پیشکش، یمن میں جھڑپیں اور فضائی حملے

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یمن میں سیاسی مذاکرات پر زور، سعودی عرب نے چار ڈرونز تباہ کرنے کا اعلان کردیا، حوثیوں کے مطابق بمباری میں 12 شہری ہلاک

ایران کی سعودی عرب اور حوثیوں میں ثالثی کی پیشکش، یمن میں جھڑپیں اور فضائی حملے

تہران/ریاض: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان ایک مرتبہ پھر ثالثی کی پیشکش کردی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ یمن میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور سیاسی مفاہمت ضروری ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے یہ پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن کے مختلف علاقوں میں مسلح جھڑپوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں، جبکہ سعودی عرب نے بھی اپنی فضائی حدود میں ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔

عباس عراقچی نے یمن کے تنازع کے سیاسی حل پر زور دیتے ہوئے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ثالثی کے لیے ایران کی آمادگی ظاہر کی۔ تاہم اس پیشکش پر متعلقہ فریقوں کے باضابطہ ردعمل یا مذاکرات کے کسی نئے شیڈول کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

دوسری جانب سعودی عرب کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے دارالحکومت ریاض سمیت مختلف علاقوں کی جانب آنے والے چار ڈرونز کو فضا میں ہی روک کر تباہ کردیا۔ سعودی حکام نے ان کارروائیوں کی تصدیق کی ہے، تاہم دستیاب رپورٹ میں ممکنہ نقصانات کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

یمن میں بھی کشیدگی برقرار ہے، جہاں مختلف محاذوں پر یمنی افواج اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں شدت آنے کی اطلاعات ہیں۔ دارالحکومت صنعاء میں حوثیوں کے زیر استعمال مقامات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

حوثیوں کے مطابق یمن کے علاقوں ذمار اور تعز میں بمباری سے 12 شہری ہلاک ہوئے، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ ان ہلاکتوں اور حملوں کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

اسی دوران ایران کے پاسداران انقلاب نے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں آگ لگ گئی۔ تاہم جہازوں کی شناخت، عملے کی صورتحال اور نقصان کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کی اہم گزرگاہ ہے۔ اس علاقے میں بحری جہازوں کو پیش آنے والے واقعات توانائی کی نقل و حمل اور سمندری سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا کرتے ہیں۔

ایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن الرضا نے بھی موجودہ کشیدگی کے تناظر میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا انتہائی طاقتور بم، جسے مدر آف آل بمز کہا جاتا ہے، ایران کو خوفزدہ نہیں کرسکتا۔

مشرق وسطیٰ میں یہ پیش رفت ایسے وقت ہورہی ہے جب یمن میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور سعودی عرب کو ڈرون حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔ ایران کی نئی ثالثی پیشکش کے باوجود فوری جنگ بندی یا سیاسی مذاکرات کے آغاز کی تصدیق نہیں ہوئی۔

یمن کے تنازع میں تازہ جھڑپوں، فضائی حملوں اور شہری ہلاکتوں کی اطلاعات کے درمیان سفارتی کوششوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے، تاہم کسی ممکنہ معاہدے کے لیے متعلقہ فریقوں کی آمادگی اور عملی اقدامات ضروری ہوں گے۔

خبر شیئر کریں: