خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی مجبوری تھی، پی ٹی آئی نے خونریزی کا منصوبہ بنایا تھا، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم کے مطابق مذاکرات میں لانگ مارچ واپس لینے پر اتفاق ہوا تھا، تاہم تحریک انصاف نے فیصلے پر عمل نہیں کیا۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی مجبوری تھی، پی ٹی آئی نے خونریزی کا منصوبہ بنایا تھا، وزیراعظم شہباز شریف

گوجرانوالہ: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ مجبوری کے تحت کیا گیا، کیونکہ ان کے بقول پاکستان تحریک انصاف نے اس مرتبہ بھی احتجاج کے دوران خونریزی کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا، تاہم بات چیت کے دوران طے پانے والے معاملات پر عمل نہیں کیا گیا۔

وزیراعظم گوجرانوالہ میں راشد بشیر ورک کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں انہوں نے محمود بشیر ورک کے انتقال پر اہل خانہ سے تعزیت کی۔ اس موقع پر انہوں نے مرحوم کی سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور سوگوار خاندان کے لیے صبر کی دعا کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ محمود بشیر ورک کی سیاسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور ہر انسان نے ایک دن دنیا سے رخصت ہونا ہے۔

بعد ازاں سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی ماضی کی سیاسی سرگرمیوں سے ملک کو نقصان پہنچا اور موجودہ صورتحال میں بھی حکومت کو امن و امان سے متعلق سنگین خدشات کا سامنا تھا۔

شہباز شریف کے مطابق تحریک انصاف نے اس مرتبہ بھی خون خرابے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، تاہم حکومت نے تصادم سے بچنے کے لیے مذاکرات کو ترجیح دی۔ یہ الزامات وزیراعظم کے بیان پر مبنی ہیں اور فراہم کردہ خبر میں ان کی آزادانہ تصدیق یا تحریک انصاف کا جواب شامل نہیں ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مسلسل ملاقاتیں کرکے سیاسی معاملات حل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق بات چیت کے دوران یہ طے پایا تھا کہ تحریک انصاف لانگ مارچ کی کال واپس لے گی، لیکن بعد میں ایسا نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ بھی ایک سے زیادہ ملاقاتیں ہوئیں، جن میں صوبے کی ترقی، وسائل کی فراہمی اور دیگر انتظامی امور زیر بحث آئے۔

شہباز شریف کے مطابق سابق وزیراعلیٰ کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ خیبرپختونخوا کی ترقی کے لیے جتنے وسائل درکار ہوں گے، وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق صوبے کی ترقی اور عوامی ضروریات پوری کرنے کے لیے تعاون پر آمادہ تھا، تاہم اس کے جواب میں احتجاج اور لانگ مارچ کی دھمکیاں دی گئیں۔

وزیراعظم نے افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان کو سرحد پار سے مسلسل سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے وفاق، صوبوں اور تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام اور سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد میں بے پناہ مشکلات برداشت کی ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز کے جوان بھی مسلسل جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایسے حالات میں سیاسی کشیدگی بڑھانے کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی بحالی کے لیے تعاون ضروری ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، لیکن تحریک انصاف کی جانب سے احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

گفتگو کے دوران وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور نواز شریف سے متعلق بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی نامزدگی کے معاملے میں کبھی کسی دوسرے نام پر غور نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق نواز شریف کا سیاسی تجربہ، سوچ اور عوام کے ساتھ تعلق ان کی اہم سیاسی قوت ہیں۔

پنجاب کی حکومتی کارکردگی کے بارے میں شہباز شریف نے کہا کہ صوبے میں انتظامی معاملات بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔

ملکی معیشت کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان معاشی استحکام کی جانب بڑھ چکا ہے اور حکومت عوام کی فلاح، ترقیاتی سرگرمیوں اور امن و امان کی بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

وزیراعظم کے تازہ بیان کے بعد خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ، تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی صورتحال ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ تاہم فراہم کردہ بیان میں ایمرجنسی کے خاتمے یا نئے مذاکرات کے لیے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

خبر شیئر کریں: