مکہ دفاعی معاہدہ جنگ نہیں، علاقائی امن کے لیے ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی
دوحہ میں گلوبل سیکیورٹی فورم سے خطاب، پاکستان کی سعودی عرب کے ساتھ کھڑے رہنے اور ایران امریکا مذاکرات کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی یقین دہانی۔
دوحہ: وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد جنگ کرنا نہیں بلکہ رکن ممالک کی سلامتی یقینی بنانا اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں گلوبل سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی تنازعات کے پُرامن حل پر یقین رکھتا ہے۔ ان کے مطابق مکہ معاہدے کو کسی جارحانہ اقدام کے بجائے مشترکہ دفاع اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑا رہے گا اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ اختلافات اور تنازعات کو فوجی تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ رواں سال 7 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول شامل ہے۔
محسن نقوی نے اپنے خطاب میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان نے ہر ممکن کوشش کی اور مشکل حالات کے باوجود بات چیت کا راستہ کھلا رکھنے پر توجہ دی۔
ان کے مطابق مذاکراتی عمل کے دوران بعض مواقع پر صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی تھی، تاہم پاکستان نے سفارتی رابطے جاری رکھے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا اور انسانی جانوں کا تحفظ پاکستان کی کوششوں کا بنیادی مقصد رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے اس سلسلے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عالمی رہنماؤں سے رابطوں اور سفارتی کوششوں کے ذریعے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔ محسن نقوی نے قطر کی سفارتی کوششوں کو بھی قابلِ قدر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قطر نے علاقائی کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے تعاون کیا۔ ان کے مطابق امن کا قیام کسی ایک ملاقات یا مذاکراتی نشست سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مسلسل رابطوں، صبر و تحمل اور باہمی اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔
محسن نقوی نے مذاکرات کے حوالے سے تین بنیادی اصولوں پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں، مذاکرات میں اعتماد بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور پائیدار امن کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ کوشش کرنا ہوگی۔
دہشت گردی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان خود طویل عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے اور اس کے خلاف بھاری جانی و مالی نقصانات برداشت کرچکا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کو عالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان جنگوں کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا حامی ہے اور ایسا علاقائی ماحول چاہتا ہے جہاں اختلافات کو تصادم میں تبدیل ہونے سے پہلے سفارتی ذرائع سے حل کیا جاسکے۔
محسن نقوی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بنیادی مقصد دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان سعودی عرب اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ امن و استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔





