ایشین کپ 2027 ملتوی ہوگا یا نہیں؟ سعودی عرب نے اہم اعلان کردیا
ریاض میں حالیہ حملوں کے بعد ٹورنامنٹ کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے، سعودی منتظمین نے مقررہ تاریخوں پر مقابلے کرانے کا عزم ظاہر کردیا، ایشیائی فٹبال کنفیڈریشن نے حالات پر نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ریاض: سعودی عرب میں حالیہ حملوں کے باعث بین الاقوامی کھیلوں کے کئی مقابلے متاثر ہونے کے باوجود ایشین کپ فٹبال 2027 کی تیاریاں جاری رکھنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ سعودی منتظمین کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ مقررہ شیڈول کے مطابق منعقد کرانے کے لیے انتظامات کیے جارہے ہیں اور فی الحال اسے ملتوی کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
ایشین کپ 2027 کی مقامی آرگنائزنگ کمیٹی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اسٹیڈیمز، کھلاڑیوں کی سہولیات، انتظامی معاملات اور دیگر ضروری انتظامات پر کام طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری ہے۔ کمیٹی کے مطابق ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد کے لیے ایشیائی فٹبال کنفیڈریشن اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جارہا ہے۔
ایشیا کا سب سے بڑا قومی ٹیموں کا فٹبال ٹورنامنٹ 7 جنوری سے 5 فروری 2027 تک سعودی عرب میں شیڈول ہے، جس میں براعظم کی 24 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ مقابلے ریاض، جدہ اور الخبر میں منعقد ہوں گے۔
سعودی منتظمین کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور دیگر اہم تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد ملک میں بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ریاض کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ یمن کی حوثی تحریک نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ان واقعات کے بعد بعض بین الاقوامی ٹیموں اور کھیلوں کی تنظیموں نے سعودی عرب میں ہونے والے مقابلوں کے لیے سیکیورٹی انتظامات پر تشویش ظاہر کی ہے۔
ایشیائی فٹبال کنفیڈریشن کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم آل خلیفہ نے بھی رواں ہفتے تسلیم کیا تھا کہ اگر سیکیورٹی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو ایشین کپ کو ایک سال کے لیے مؤخر کرکے 2028 میں منعقد کرنے کا امکان زیر غور آسکتا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ حالات تیزی سے تبدیل ہوسکتے ہیں، اس لیے کسی حتمی فیصلے میں جلد بازی نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق نومبر کے اختتام تک صورتحال کا جائزہ لیا جاسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ٹورنامنٹ کی تاریخوں میں تبدیلی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
تاہم سعودی آرگنائزنگ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ فی الحال تمام تیاریاں اصل شیڈول کے مطابق جاری ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ مقابلوں سے متعلق پیش رفت اور حالات کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا تاکہ کھلاڑیوں، شائقین اور دیگر شرکا کے لیے مناسب انتظامات یقینی بنائے جاسکیں۔
حالیہ حملوں کے اثرات سعودی عرب کے دیگر بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں پر بھی پڑے ہیں۔ ریاض میں 18 سے 21 نومبر تک ہونے والا سعودی انٹرنیشنل گالف ٹورنامنٹ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔ اس مقابلے کی مجموعی انعامی رقم 50 لاکھ ڈالر مقرر تھی۔
اسی طرح ریاض میں نومبر کے پہلے ہفتے شیڈول اربن سائیکلنگ ورلڈ چیمپئن شپ بھی منسوخ کردی گئی ہے۔ آسٹریلیا نے اس مقابلے میں شرکت کے لیے اپنی ٹیم بھیجنے سے پہلے ہی انکار کردیا تھا اور کھلاڑیوں اور عملے کی سلامتی کو اپنے فیصلے کی بنیادی وجہ قرار دیا تھا۔
ٹینس کے نمائشی مقابلے سکس کنگز سلام کو اکتوبر سے دسمبر میں منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ جدہ میں ہونے والے فیفا ای فائنلز 2026 کو بھی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا جاچکا ہے۔
فٹبال کے مقامی مقابلے بھی حالیہ صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں۔ سعودی پرو لیگ کے تین میچ ملتوی کیے گئے، جبکہ کرسٹیانو رونالڈو کی ٹیم النصر اور ازبکستان کے کلب نفتچی فرغانہ کے درمیان ایشیائی کلب مقابلہ سیکیورٹی الرٹ کے باعث تاخیر سے شروع ہوا۔
جنوبی کوریا کی پروفیشنل فٹبالرز ایسوسی ایشن نے بھی ایشین کپ کے انعقاد سے متعلق خدشات ظاہر کیے ہیں۔ تنظیم کے سربراہ لی کن ہو نے کہا ہے کہ کسی بھی کھیل کی اہمیت کھلاڑیوں اور شائقین کی زندگیوں اور سلامتی سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی۔
جنوبی کوریا کی ٹیم کا ابتدائی مقابلہ 10 جنوری کو یمن کے خلاف شیڈول ہے۔ کھلاڑیوں کی تنظیم کا مؤقف ہے کہ اگر سیکیورٹی کی مکمل یقین دہانی ممکن نہ ہو تو ٹورنامنٹ کے انعقاد سمیت تمام آپشنز کا دوبارہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
ایشین کپ کے لیے سعودی عرب کے تین شہروں میں مجموعی طور پر آٹھ اسٹیڈیمز منتخب کیے گئے ہیں۔ ریاض کا کنگ فہد اسپورٹس سٹی اسٹیڈیم افتتاحی میچ اور فائنل کی میزبانی کرے گا، جبکہ جدہ اور الخبر میں بھی گروپ اور ناک آؤٹ مرحلے کے مقابلے ہوں گے۔
سعودی عرب پہلی مرتبہ ایشین کپ کی میزبانی کرنے جارہا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ ملک کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ سعودی عرب 2034 میں فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کی تیاری کررہا ہے اور ایشین کپ کو بڑے بین الاقوامی مقابلوں کے انتظامات جانچنے کا ایک اہم موقع سمجھا جارہا ہے۔
موجودہ صورتحال میں سعودی منتظمین ٹورنامنٹ کو مقررہ وقت پر کرانے کے لیے پُرعزم ہیں، تاہم حتمی صورتحال آنے والے ہفتوں میں سیکیورٹی حالات اور ایشیائی فٹبال کنفیڈریشن کے فیصلوں سے واضح ہوگی۔





