غیرملکی فنڈنگ سے جاری ترقیاتی منصوبوں کو مالی مشکلات، مطلوبہ رقم کا نصف بھی مختص نہ ہوسکا
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ غیرملکی مالی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مقامی اخراجات کی مد میں 537 ارب روپے درکار ہیں، تاہم صرف 255 ارب روپے مختص کیے گئے، جس سے منصوبوں پر عمل درآمد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت کے غیرملکی مالی معاونت سے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے مقامی کرنسی میں مطلوبہ فنڈز کی شدید کمی سامنے آئی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران ان منصوبوں کے لیے 537 ارب روپے درکار تھے، تاہم مالی مشکلات کے باعث صرف 255 ارب روپے مختص کیے جاسکے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام 2026-27 کے تحت غیرملکی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبوں، ان کی مالی ضروریات، تکمیل کی مدت اور بیرونی قرضوں پر انحصار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں غیرملکی معاونت سے چلنے والے مجموعی طور پر 98 منصوبے شامل ہیں، جن کی کل تخمینی لاگت تقریباً 8 ہزار 100 ارب روپے ہے۔ ان منصوبوں میں غیرملکی مالی معاونت کا حصہ تقریباً 4 ہزار 649 ارب روپے بنتا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اقتصادی امور ڈویژن نے متعلقہ وزارتوں، ڈویژنوں اور مالی معاونت فراہم کرنے والے اداروں سے مشاورت کے بعد مقامی کرنسی میں 425 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم قومی اقتصادی کونسل نے مالی وسائل کی محدود دستیابی کے باعث اس مد میں صرف 255 ارب روپے کی منظوری دی۔
اس طرح اصل ضرورت کے مقابلے میں 282 ارب روپے کی کمی سامنے آئی ہے، جبکہ مختص رقم مجموعی ضرورت کے تقریباً 47 فیصد کے برابر ہے۔
کمیٹی کو منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے بتایا گیا کہ جن منصوبوں پر 80 فیصد سے زیادہ عملی کام مکمل ہوچکا ہے، ان کی رواں مالی سال کے دوران تکمیل متوقع ہے۔ چیئرپرسن نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایسے منصوبوں کی مؤثر نگرانی کی جائے تاکہ مقررہ اہداف حاصل کیے جاسکیں۔
اجلاس کے دوران غیرملکی قرضوں، خصوصاً ڈالر میں لیے جانے والے ایسے قرضوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے جن کے ساتھ سود اور واپسی کی مالی ذمہ داریاں وابستہ ہوتی ہیں۔ کمیٹی نے زور دیا کہ حکومت مقامی وسائل کے بہتر استعمال کا جائزہ لے اور غیرضروری بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔
کمیٹی نے سکھر حیدرآباد ایم سکس موٹروے منصوبے میں طویل تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی۔ حکام کے مطابق منصوبے کے مختلف حصوں کے لیے مالی معاونت اور ٹھیکوں سے متعلق کارروائی جاری ہے، جبکہ بعض حصوں کے معاہدوں اور تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے آئندہ مہینوں کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
قائمہ کمیٹی نے واضح کیا کہ غیرملکی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کے لیے پاکستانی روپے میں مناسب فنڈز کی دستیابی ضروری ہے تاکہ منصوبوں کی تکمیل میں مزید تاخیر سے بچا جاسکے۔ کمیٹی نے شفافیت، مالی نظم و ضبط اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔





