سرکاری گندم کا معاملہ، بلوچستان ہائی کورٹ نے سیکرٹری اور ڈی جی خوراک کو طلب کرلیا
گندم کے ذخائر، خریداری اور تقسیم کا مکمل ریکارڈ طلب، مزید سماعت 12 نومبر کو ہوگی۔
کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ نے سرکاری گندم کے ذخائر، گوداموں کی تحویل اور گندم کی خریداری و تقسیم سے متعلق کیس میں سیکرٹری خوراک اور ڈائریکٹر جنرل محکمہ خوراک کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ دونوں افسران کو الگ الگ جامع اور مصدقہ رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
جسٹس اقبال احمد کاسی اور جسٹس میاں محمد رؤف عطا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئینی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل راہب خان بلیدی، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل چنگیز دشتی اور ڈائریکٹر محکمہ خوراک محمد رحیم بنگلزئی عدالت میں پیش ہوئے۔
ڈائریکٹر خوراک نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار نے مبینہ طور پر مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر سرکاری گودام کو ڈی سیل کرکے وہاں موجود گندم کا پورا ذخیرہ اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس معاملے میں کوئی قانونی کارروائی کی گئی یا ایف آئی آر درج کرائی گئی؟ ڈائریکٹر خوراک نے بتایا کہ اعلیٰ حکام کو درخواستیں دی گئی تھیں، تاہم ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ عدالت نے پیش کردہ وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔
بینچ نے کہا کہ معاملہ سرکاری گندم کی تحویل، حفاظت، انتظام، فروخت اور تقسیم سے متعلق اہم قانونی اور انتظامی سوالات پیدا کرتا ہے۔ صوبے میں گندم کی مبینہ قلت اور عوام کو درپیش مشکلات کے تناظر میں سرکاری ذخائر کا تحفظ اور قوانین کے مطابق شفاف تقسیم ضروری ہے۔
عدالت نے صوبے بھر کے سرکاری گوداموں میں موجود گندم کی مجموعی مقدار، ہر گودام کے ذخیرے، محل وقوع اور اسٹاک کی تصدیق کی تاریخ طلب کرلی۔ گوداموں کی تحویل، نگرانی، انتظام اور حفاظت کے ذمہ دار افسران کے نام اور عہدے بھی پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔
محکمہ خوراک کو گندم کی خریداری، ذخیرہ کرنے، فروخت اور تقسیم کے طریقہ کار، قیمتوں کے تعین، اہل خریداروں اور اجازت نامے جاری کرنے کے نظام کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ گودام کھولنے، سیل یا ڈی سیل کرنے اور گندم منتقل کرنے سے متعلق قوانین، قواعد اور محکمانہ پالیسیوں کی نقول بھی طلب کی گئی ہیں۔
گودام کو مبینہ طور پر ڈی سیل کرنے کے معاملے پر معائنہ رپورٹس، اسٹاک رجسٹرز اور سرکاری خط و کتابت سمیت متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ محکمہ کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ واقعے کے بعد کیا اقدامات کیے گئے، کوئی انکوائری ہوئی یا نہیں اور ایف آئی آر درج نہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں۔
عدالت نے زیر بحث گندم کے موجودہ ذخیرے، قانونی تحویل اور اس کے کسی حصے کی فروخت، منتقلی یا تقسیم کی تفصیلات بھی مانگ لی ہیں۔ حکم نامے کی نقل تعمیل کے لیے ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفتر کو بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت 12 نومبر 2026 تک ملتوی کردی گئی۔





