کوئٹہ میں مہنگائی کی لہر، آٹے کے ساتھ مرغی، سبزیاں اور گیس بھی مہنگی ہوگئی

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق 20 کلو آٹا 3500 روپے اور مرغی کا گوشت 650 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔

کوئٹہ میں مہنگائی کی لہر، آٹے کے ساتھ مرغی، سبزیاں اور گیس بھی مہنگی ہوگئیAI Generated

کوئٹہ: آٹے، مرغی کے گوشت، ایل پی جی اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے پر شہریوں نے ضروری اشیا کی سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے آن لائن کی مارکیٹ رپورٹ کے مطابق شہر میں آٹے کا 20 کلو تھیلا 3500 روپے جبکہ 50 کلو کی بوری 8 ہزار روپے میں فروخت ہورہی ہے۔ مرغی کے گوشت کی قیمت 600 سے 650 روپے اور ایل پی جی کی قیمت 600 روپے فی کلو تک بتائی گئی ہے۔

سبزیوں کے نرخ بھی شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گوبھی 160 روپے، بند گوبھی اور کھیرا 120 روپے، مٹر 450 روپے، بھنڈی 180 روپے، کدو 160 روپے اور توری 150 روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔

آلو کی پانچ کلو مقدار کے نرخ 150 سے 250 روپے جبکہ پیاز کے پانچ کلو کے نرخ 550 روپے بتائے گئے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ خریداری مہنگی ہونے سے گھر کا بجٹ متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ بازاروں میں نرخ ناموں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور مقررہ قیمت سے زیادہ وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

رپورٹ میں خضدار، چاغی، واشک اور کیچ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی آٹے اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی شکایات بیان کی گئی ہیں۔

گندم کی فراہمی کے حوالے سے 21 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹس میں محکمہ کموڈیٹیز کے ذرائع نے بتایا تھا کہ کابینہ نے پاسکو سے 5 لاکھ 75 ہزار بوریاں گندم خریدنے کی منظوری دی تھی، تاہم انتظامی مراحل کی وجہ سے خریداری میں تاخیر ہوئی۔

فلور ملز ایسوسی ایشن نے بھی گندم کی دستیابی کے مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے ضروری اشیا کی فراہمی بہتر بنانے اور قیمتوں کی نگرانی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

خبر شیئر کریں: