بلوچستان میں سرداری نظام کے خاتمے اور نواب و سردار کے القابات پر پابندی کی قرارداد اسمبلی میں پیش کرنے کی تیاری
مولانا ہدایت الرحمٰن کی قرارداد اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل، سرکاری اسکولوں میں عربی لازمی قرار دینے سمیت دیگر قراردادیں بھی پیش کی جائیں گی۔
کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں صوبے سے سرداری نظام کے خاتمے اور نواب و سردار کے القابات کے استعمال پر پابندی سے متعلق قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ قرارداد رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔
22 اکتوبر کے لیے جاری اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچستان میں سرداری نظام کے فوری خاتمے اور نواب و سردار کے الفاظ بولنے اور لکھنے پر پابندی کی قرارداد پیش کریں گے۔ وہ قومی شاہراہوں پر حادثات کی صورت میں ریسکیو اور ہنگامی امداد کے نظام کو مؤثر بنانے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس بھی پیش کریں گے۔
اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے رکن میر زابد علی ریکی دالبندین تا ماشکیل اور دالبندین تا بسیمہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی سے متعلق قرارداد پیش کریں گے، جبکہ رکن اسمبلی شاہد رؤف سرکاری اسکولوں میں عربی زبان کو لازمی مضمون قرار دینے کی قرارداد پیش کریں گی۔
اس کے علاوہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین پشین میں قائم جامعہ بلوچستان کے سب کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دینے کی قرارداد پیش کریں گے۔ اجلاس میں میر غلام قادر بگٹی اسکول آف ایکسیلینس نارتھ ڈیرہ بگٹی کا مسودہ قانون بھی پیش کیا جائے گا۔
اسمبلی اجلاس کے دوران محکمہ ترقی نسواں اور محکمہ توانائی سے متعلق سوالات اور ان کے جوابات بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق قرارداد فی الحال اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ اس کی منظوری یا کسی قانونی پابندی کے نفاذ کی تصدیق نہیں ہوئی۔





