بلوچستان میں خوراک کے نام پر کیا فروخت ہورہا ہے؟ 35 دکانوں پر جرمانے
کوئٹہ، خضدار، کچلاک اور پشین میں ریسٹورنٹس، بیکریوں اور دکانوں کے معائنے کے دوران ملاوٹ، زائدالمیعاد اشیا کی فروخت اور صفائی کے ناقص انتظامات سامنے آئے۔
AI Generated
کوئٹہ: بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے صوبے کے مختلف علاقوں میں غیر معیاری اور زائدالمیعاد اشیائے خوردونوش کی فروخت کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے 35 کاروباری مراکز پر جرمانے عائد کردیے، جبکہ 47 دیگر مراکز کو اصلاحی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں نے کوئٹہ، خضدار، کچلاک اور پشین میں ریسٹورنٹس، بیکریوں، دودھ کی دکانوں اور دیگر کھانے پینے کے مراکز کا معائنہ کیا۔ کارروائیوں کے دوران صفائی کی خراب صورتحال، خوراک کو غیر محفوظ طریقے سے رکھنے، ملاوٹ اور کاروباری لائسنس سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔
بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں ریسٹورنٹس اور بیکریوں کی جانچ پڑتال کے دوران تین ریسٹورنٹس اور ایک بیکری پر جرمانے عائد کیے گئے۔ ان مراکز میں صفائی کے ناقص انتظامات، کارکنوں کی ذاتی صفائی میں غفلت، کھلے کوڑے دان، نکاسی آب کی خراب صورتحال اور مکھیوں کی بھرمار پائی گئی۔
معائنے کے دوران بعض مراکز میں زنگ آلود ریفریجریٹرز بھی موجود تھے، جبکہ خوراک کو محفوظ رکھنے کے مقررہ اصولوں کی پابندی نہیں کی جارہی تھی۔ فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں نے مختلف مراکز سے زائدالمیعاد اشیائے خوردونوش ضبط کرلیں۔
ضبط کی گئی اشیا میں بریڈ، مشروبات، کافی، دیسی گھی، جوس، اسنیکس، بسکٹ، کیک اور فریش کریم شامل تھیں۔ بعض مصنوعات پر تیاری اور استعمال کی آخری تاریخ بھی درج نہیں تھی، جس کے باعث ان کے معیار اور قابل استعمال ہونے سے متعلق سوالات پیدا ہوئے۔
انسپیکشن ٹیموں نے مصالحہ جات میں ممنوعہ چائنیز نمک کے استعمال پر بھی کارروائی کی۔ متعلقہ کاروباری مراکز کو فوڈ سیفٹی قوانین کی پابندی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
دودھ میں ملاوٹ کی روک تھام کے لیے فوڈ اتھارٹی کی ملک سیفٹی ٹیموں نے کوئٹہ کے مٹھا چوک، پشتون آباد اور فقیر محمد روڈ پر دودھ فروخت کرنے والی دکانوں کی جانچ کی۔ اس دوران دودھ اور دہی کے نمونوں کے موقع پر ٹیسٹ کیے گئے۔
ٹیسٹ کے نتائج میں بعض نمونوں میں پانی اور اسکمڈ ملک پاؤڈر کی ضرورت سے زیادہ مقدار پائی گئی، جس پر تین دودھ فروشوں کو جرمانے کیے گئے۔ دو دیگر دکانوں کو معمولی نوعیت کی خامیوں پر اصلاحی نوٹس جاری کیے گئے۔
خضدار میں فوڈ اتھارٹی کی زونل انسپیکشن ٹیم نے آغا مارکیٹ، عمر فاروق چوک، میر چاکر خان روڈ اور ملحقہ علاقوں میں کھانے پینے کے مراکز کا معائنہ کیا۔ اس دوران فوڈ بزنس کے مؤثر لائسنس کے بغیر کاروبار کرنے والے دو مراکز پر جرمانے عائد کیے گئے۔
کچلاک بازار، زیارت روڈ اور چمن روڈ پر بھی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے کارروائیاں کیں۔ حکام کے مطابق بار بار تنبیہ اور نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود مطلوبہ لائسنس حاصل کیے بغیر خوراک کا کاروبار کرنے والے 20 مراکز کے خلاف کارروائی کی گئی۔
پشین کے علاقے قلعہ بٹیزئی میں خصوصی انسپیکشن کے دوران پانچ کاروباری مراکز کو جرمانے کیے گئے۔ ان مراکز میں صفائی کے ناقص انتظامات، حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی اور زائدالمیعاد اشیا کی موجودگی سامنے آئی۔
فوڈ اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ کارروائیوں کا مقصد بازاروں، ریسٹورنٹس، بیکریوں اور دودھ کی دکانوں پر فروخت ہونے والی خوراک کا معیار بہتر بنانا اور شہریوں کو غیر محفوظ اشیا سے بچانا ہے۔
انسپیکشن ٹیموں نے کاروباری مراکز کے مالکان کو ہدایت کی کہ وہ خوراک کی تیاری، ذخیرہ کرنے اور فروخت کے دوران صفائی اور معیار سے متعلق مقررہ ضابطوں پر عمل کریں۔ معمولی خامیوں والے مراکز کو اصلاح کے لیے نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ سنگین خلاف ورزیوں پر جرمانے عائد کیے گئے۔
بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ صوبے بھر میں خوراک کے معیار کی نگرانی اور معائنوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ حکام کے مطابق ملاوٹ، زائدالمیعاد اشیا کی فروخت اور عوامی صحت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کاروباری مراکز کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔





