بلوچستان میں 200 ڈیمز کا منصوبہ فنڈز کی کمی سے تعطل کا شکار، صوبائی وزیر میر محمد صادق عمرانی
کچھی کینال اور وندر ڈیم سمیت اہم منصوبوں میں طویل تاخیر، صوبائی وزیر کا فنڈز کی فوری فراہمی اور منصوبے تین سال میں مکمل کرنے پر زور
کوئٹہ: بلوچستان میں پانی کی قلت اور زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کے درمیان 200 ڈیمز کا منصوبہ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث التوا کا شکار ہے۔ صوبائی وزیر آبپاشی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر محمد صادق عمرانی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے زیر تعمیر ڈیمز کے لیے فنڈز فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ منصوبوں کو مکمل کرکے عوام کو ان کے فوائد پہنچائے جاسکیں۔
ایک خصوصی گفتگو میں میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ 30 سال کے دوران بارشوں اور برفباری میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ زیر زمین پانی کے مسلسل استعمال سے آبی ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق پانی کی سطح بحال کرنے کے لیے ضروری اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے صوبے میں پینے کے پانی، زراعت اور مال مویشیوں کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیمز کی عدم موجودگی کے باعث بارشوں اور برفباری سے حاصل ہونے والے پانی کا بڑا حصہ ذخیرہ کیے بغیر ضائع ہوجاتا ہے۔ اگر ڈیمز بروقت تعمیر کیے جائیں تو پانی محفوظ کرکے اسے گھریلو استعمال، زرعی مقاصد اور لائیو اسٹاک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ زیر زمین پانی کی سطح بہتر بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
صوبائی وزیر کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ پانی کی دستیابی میں کمی سے زرعی شعبہ بھی متاثر ہورہا ہے، جس کے باعث آبی منصوبوں کی بروقت تکمیل مزید اہمیت اختیار کرگئی ہے۔
میر محمد صادق عمرانی نے بتایا کہ بلوچستان میں 200 ڈیمز کا منصوبہ مطلوبہ فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے التوا کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے رابطے کیے جارہے ہیں تاکہ زیر تعمیر منصوبوں کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری شکیل قادر خان سے بھی زیر تکمیل منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی پر بات ہوئی ہے۔ ان کے مطابق محکمہ آبپاشی ڈیمز کی تعمیر کے سلسلے میں اپنے انجینئرنگ شعبے کے ساتھ 12 کور کے انجینئرنگ وسائل سے بھی معاونت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
صوبائی وزیر نے ترقیاتی منصوبوں میں غیر معمولی تاخیر کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھی کینال کا منصوبہ 24 سال سے مکمل نہیں ہوسکا، جبکہ ڈیمز کے بعض منصوبے 20 سال سے زیر تکمیل ہیں۔ انہوں نے وندر ڈیم کی عدم تکمیل کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق سریے، سیمنٹ اور دیگر تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے تاخیر کا شکار منصوبوں کی لاگت بڑھ رہی ہے۔ اسی لیے ان کی تجویز ہے کہ آئندہ شروع ہونے والے بڑے منصوبوں کی تکمیل کے لیے تین سال کی مدت مقرر کی جائے اور اس پر سختی سے عمل کیا جائے۔
ڈیمز کے مقامات کے انتخاب سے متعلق سوال پر میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ منصوبے فزیبلٹی رپورٹ کے مطابق مقررہ جگہوں پر تعمیر کیے جاتے ہیں اور کسی ڈیم کا مقام تبدیل کرنے کا اختیار صرف وزیراعلیٰ یا صوبائی کابینہ کو حاصل ہے۔
انہوں نے ڈیمز کی منصوبہ بندی میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور ممکنہ سیلابی بہاؤ کو مدنظر رکھنے پر بھی زور دیا تاکہ شدید بارشوں یا سیلاب کے دوران تعمیرات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ کم کیا جاسکے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان میں نہری نظام بنیادی طور پر نصیرآباد ڈویژن میں موجود ہے، جس کی بہتری کے لیے کام جاری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ زیر تکمیل آبی منصوبوں کو جلد مکمل کرکے پینے کے پانی، زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں کو فائدہ پہنچایا جائے۔
میر محمد صادق عمرانی نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیمز اور دیگر آبی منصوبوں کے لیے بروقت فنڈز کی فراہمی ضروری ہے، کیونکہ مزید تاخیر سے نہ صرف تعمیراتی اخراجات بڑھیں گے بلکہ پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے علاقوں میں مشکلات بھی برقرار رہیں گی۔





