اسمگلنگ اور سیکیورٹی خدشات، پاکستان نے ایران کے ساتھ دو اہم تجارتی راستے بند کردیے سرخی کاپی کریں

گبد ریمدان اور تفتان پر تجارت معطل، سیکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں، ایل پی جی کی قلت کا خدشہ۔

اسمگلنگ اور سیکیورٹی خدشات، پاکستان نے ایران کے ساتھ دو اہم تجارتی راستے بند کردیے  سرخی کاپی کریں

کوئٹہ/گوادر: پاکستان نے ایران کے ساتھ دو اہم سرحدی گزرگاہوں گبد ریمدان اور تفتان کے ذریعے تجارتی سرگرمیاں معطل کردی ہیں، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سامان کی نقل و حمل متاثر ہوئی ہے۔ سرحدی بندش کے باعث ایل پی جی، چاول، تازہ پھلوں اور دیگر ضروری اشیا سے لدے سیکڑوں ٹرک دونوں جانب پھنس گئے ہیں، جبکہ تاجروں نے ممکنہ معاشی نقصانات اور ملک میں ایل پی جی کی قلت پر تشویش ظاہر کی ہے۔

وفاقی وزارتِ تجارت نے جمعہ 16 اکتوبر کو ایک مراسلہ جاری کرتے ہوئے 3 اکتوبر کے سابقہ حکم نامے نمبر 9(3)2017-Iran کو فوری طور پر واپس لے لیا۔ اس اقدام کے بعد گبد ریمدان، جسے سرکاری طور پر سرحدی گزرگاہ 250 بھی کہا جاتا ہے، اور تفتان کے راستے ایران کے ساتھ تجارت معطل ہوگئی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے سرحدی بندش سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ سیکیورٹی خدشات دور کرنے، اسمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی انتظام کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

شاہد رند نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سرحد کی بندش سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کی اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ غیر مصدقہ معلومات پر توجہ نہ دیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کی سرحد پر سیکیورٹی اور انتظامی امور بہتر بنانے کے لیے ضروری تھا۔

مشیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے اعلیٰ حکام سرحد سے متعلق انتظامی مسائل حل کرنے کے لیے رابطے میں ہیں اور اس سلسلے میں پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ پیش رفت کے نتیجے میں پاک ایران سرحد جلد دوبارہ کھول دی جائے گی۔

شاہد رند کے مطابق سرحدی معاملات کو بہتر بنانے اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ایک مربوط نظام تشکیل دیا جارہا ہے، تاکہ تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سامان کی آمد و رفت زیادہ مؤثر انداز میں جاری رہ سکے۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی سرحدی بندش کو عارضی قرار دیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس کی وجہ تکنیکی مسائل بتائی۔ ایرانی ترجمان کے مطابق دونوں ممالک اس مسئلے کے حل اور معمول کی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے مشاورت کررہے ہیں۔

سرحدی تجارت کی معطلی کے بعد کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے تاجروں اور اپنے اراکین کو ہدایت کی ہے کہ وہ مزید اطلاع تک درآمدات اور برآمدات کے نئے آرڈرز دینے سے گریز کریں۔

تجارتی ذرائع کے مطابق بندش کے باعث دونوں ممالک کی سرحدوں پر سیکڑوں مال بردار گاڑیاں رکی ہوئی ہیں۔ ان گاڑیوں میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی)، چاول، تازہ پھل اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا موجود ہیں۔ طویل تعطل کی صورت میں تاجروں کو اضافی اخراجات اور خراب ہونے والی اشیا کے نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

ایرانی حکام کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ریمدان گبد سرحدی گزرگاہ پر تجارتی سرگرمیاں بند ہیں، تاہم مسافروں کی آمد و رفت بدستور جاری ہے۔ ایرانی ٹرانزٹ دفتر کے ڈائریکٹر جنرل سید حسین حسینی نے تصدیق کی کہ اس گزرگاہ پر تجارتی نقل و حمل روک دی گئی ہے۔

گبد ریمدان سرحدی راستہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ تجارتی ذرائع کے مطابق اس راستے سے روزانہ 4 ہزار ٹن سے زیادہ ایل پی جی پاکستان درآمد کی جاتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ مہینوں میں پاکستانی چاول کی ایران کو برآمدات میں بھی اضافہ ہوا تھا، جس سے ملک کو زرمبادلہ حاصل ہورہا تھا۔

توانائی اور تجارتی شعبے سے وابستہ افراد نے خبردار کیا ہے کہ اگر گبد ریمدان کے ذریعے ایل پی جی کی فراہمی جلد بحال نہ ہوئی تو کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں گیس کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔ سپلائی میں کمی کی صورت میں مقامی مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

تفتان کے راستے تجارت پہلے ہی بلوچستان میں بدامنی اور نقل و حمل میں رکاوٹوں کے باعث متاثر تھی۔ ایسے حالات میں گبد ریمدان سے تجارتی سرگرمیوں کی معطلی نے درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور ٹرانسپورٹرز کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

مقامی تاجروں اور کاروباری تنظیموں کا کہنا ہے کہ سرحدی تجارت کی طویل بندش سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ سرحدی علاقوں میں تجارت اور مال برداری سے وابستہ ہزاروں افراد کے روزگار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ کاروباری حلقوں نے توانائی کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور ایران رواں سال مارچ سے دوطرفہ تجارت میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے مختلف اقدامات کررہے تھے۔ ان اقدامات میں کسٹمز کے طریقہ کار میں نرمی، تفتان کو باقاعدہ کسٹمز اسٹیشن کا درجہ دینا اور نئے ٹرانزٹ راستوں کی منظوری شامل تھی۔

اگست کے آغاز میں ایران کے وزیر صنعت و تجارت محمد اتابک کی قیادت میں ایک وفد نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا، جہاں پاک ایران مشترکہ تجارتی کمیٹی کا دسواں اجلاس منعقد ہوا۔ ایرانی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی تھی۔

اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے تجارتی تعلقات مزید بڑھانے، سرحدی گزرگاہیں چوبیس گھنٹے فعال رکھنے، سامان کی نقل و حمل کے انتظامات بہتر بنانے اور کسٹمز کے طریقہ کار میں ہم آہنگی پیدا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

تاہم سرحدی تجارت کو پہلے بھی رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جیاند ہوت کے مطابق پنجگور اور مند ردیگ کے راستوں پر خراب سڑکوں، آتش زنی اور گاڑیوں کو جلانے کے واقعات کے باعث تجارتی سرگرمیاں تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔

پاکستان اور ایران کے حکام نے موجودہ بندش کو عارضی قرار دیا ہے اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے رابطوں کی تصدیق کی ہے، تاہم دونوں اہم سرحدی راستوں سے تجارت دوبارہ شروع ہونے کی کوئی حتمی تاریخ تاحال سامنے نہیں آئی۔

خبر شیئر کریں: