بلوچستان میں انٹیلی جنس آپریشنز کے دوران 10 دہشت گرد گرفتار، مشیر وزیراعلیٰ شاہد رند
گرفتار افراد میں کالعدم ٹی ٹی پی کے 6 دہشت گرد، 2 مبینہ خودکش حملہ آور خواتین اور کالعدم تنظیم کے 2 کمانڈر شامل، کوئٹہ میں 14 اگست کا حملہ ناکام بنانے کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں
کوئٹہ: بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مختلف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے دوران 10 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا، جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 6 ارکان، دو مبینہ خودکش حملہ آور خواتین اور ایک کالعدم تنظیم کے دو کمانڈر شامل ہیں۔
یہ تفصیلات وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے جمعہ کو کوئٹہ میں پریس بریفنگ کے دوران بتائیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت بھی موجود تھے۔
شاہد رند نے بتایا کہ پولیس، سیکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے صوبے کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کررہے ہیں۔ ان کارروائیوں میں متعدد دہشت گرد مارے گئے جبکہ بعض نے ریاست کے سامنے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں واپس آنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ شعبان اور کھڈکوچہ میں کارروائیوں کے دوران ایک کالعدم تنظیم کے دو کمانڈروں کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے چھ دہشت گرد اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کے شبہے میں دو خواتین بھی گرفتار کی گئی ہیں۔
مشیر وزیراعلیٰ کے مطابق اس وقت تقریباً 90 گرفتار دہشت گرد ایک مرکز میں موجود ہیں، جہاں ان سے تفتیش اور قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔
شاہد رند نے واضح کیا کہ حکومت دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی، تاہم جو لوگ مسلح سرگرمیاں ترک کرکے پاکستان کے آئین اور قوانین کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں، انہیں معمول کی زندگی میں واپس آنے کا موقع بھی دیا جائے گا۔
انہوں نے پنجگور کے رہائشی شہاب کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہ مبینہ طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے ایک کالعدم تنظیم میں شامل ہوا تھا۔ حکومت ایسے نوجوانوں کی قومی دھارے میں واپسی کے لیے اقدامات کررہی ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر مسلح گروہوں کا حصہ بن گئے تھے۔
ان کے مطابق ان پروگراموں میں متاثرہ نوجوانوں کے اہل خانہ، سیاسی نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کا تعاون حاصل کیا جارہا ہے تاکہ مسلح سرگرمیاں چھوڑنے والے افراد معاشرے میں دوبارہ معمول کی زندگی گزار سکیں۔
شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں صوبائی ایکشن پلان کے تحت وفاقی حکومت کے ساتھ رابطے اور تعاون سے جاری رہیں گی۔
پریس بریفنگ کے دوران ایڈیشنل چیف سیکریٹری حمزہ شفقات نے کوئٹہ میں 14 اگست کو دہشت گردی کی ایک مبینہ منصوبہ بندی ناکام بنانے کی تفصیلات بھی پیش کیں۔
انہوں نے بتایا کہ اگست میں دہشت گردی کے خطرات سے متعلق الرٹ کے بعد محکمہ انسداد دہشت گردی اور سیکیورٹی فورسز نے کردگاپ کے رہائشی نیاز جتوئی اور حبیب الرحمٰن کو گرفتار کیا تھا۔
حمزہ شفقات کے مطابق ان گرفتاریوں کے نتیجے میں کوئٹہ میں 14 اگست کو مبینہ طور پر ہروف تھری کے تحت ہونے والے دہشت گرد حملے کا منصوبہ ناکام بنایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ چاغی سے کوئٹہ منتقل کیے جانے والے اسلحے اور دھماکا خیز مواد کو بھی قبضے میں لیا گیا، جس میں دستی بم اور لائٹ مشین گنیں شامل تھیں۔ اسلحے کی منتقلی میں استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی ضبط کرلی گئیں۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران 16 قوانین منظور کیے جبکہ 17 محکمے قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار عسکریت پسندوں کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے خدیجہ بلوچ سمیت ایسے افراد کی مثالیں پیش کیں جنہیں بحالی کے عمل کے بعد ان کے اہل خانہ کے ساتھ دوبارہ ملایا گیا۔
ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت نے بریفنگ میں بتایا کہ محکمہ انسداد دہشت گردی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بلوچستان بھر میں اب تک 3 ہزار 300 انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیے ہیں۔
ان کے مطابق ان کارروائیوں میں 300 سے زائد مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ سیکڑوں دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پولیس کی استعداد کار میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں دو سیکیورٹی اہلکار شہید بھی ہوئے ہیں۔
بریفنگ کے دوران شہاب، نیاز جتوئی اور حبیب الرحمٰن کے ویڈیو بیانات بھی دکھائے گئے۔ حکام نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ہتھیار چھوڑنے والے افراد کی بحالی اور قومی دھارے میں واپسی کی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں گی۔





