وفاق کی 38 ڈویژنز میں بلوچستان کا صرف ایک سیکریٹری، سینیٹ کمیٹی میں اہم سوالات اٹھ گئے
وفاقی اداروں میں صوبائی کوٹے پر عمل درآمد اور تیل و گیس کے منافع کی تقسیم کا معاملہ زیر بحث، بلوچستان کو اعلیٰ انتظامی عہدوں پر مناسب نمائندگی دینے پر زور
اسلام آباد: وفاقی حکومت کی 38 ڈویژنز میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صرف ایک وفاقی سیکریٹری کی موجودگی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اعلیٰ سرکاری عہدوں پر صوبے کی نمائندگی اور ملازمتوں کے مقررہ کوٹے پر عمل درآمد سے متعلق اہم سوالات اٹھ گئے ہیں۔ سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی میں وفاقی اداروں میں صوبائی نمائندگی کے ساتھ تیل و گیس سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کی صوبوں کو منتقلی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
14 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش کردہ معلومات میں بتایا گیا کہ وفاقی سطح پر مجموعی طور پر 38 ڈویژنز موجود ہیں، تاہم ان میں وفاقی سیکریٹری کے عہدے پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والا صرف ایک افسر تعینات ہے۔ اس صورت حال نے وفاقی انتظامی ڈھانچے میں صوبے کی نمائندگی اور اعلیٰ عہدوں تک بلوچستان کے افسران کی رسائی سے متعلق بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
کمیٹی کی کارروائی کے دوران وفاقی ملازمتوں میں صوبائی کوٹے کے مؤثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وفاقی سیکریٹری کا عہدہ انتظامی نظام میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور اس سطح کے افسران حکومتی پالیسیوں کی تیاری، اہم انتظامی فیصلوں اور مختلف وزارتوں کے امور کی نگرانی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
بلوچستان کی اعلیٰ وفاقی عہدوں پر محدود نمائندگی کا معاملہ صرف سرکاری ملازمتوں کی تعداد تک محدود نہیں بلکہ وفاقی فیصلہ سازی میں صوبے کے مسائل، ضروریات اور علاقائی حالات کی مؤثر شمولیت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ صوبے سے تعلق رکھنے والے افسران کی اعلیٰ انتظامی سطح پر موجودگی بلوچستان کے انتظامی تجربات اور مقامی مسائل کو وفاقی پالیسی سازی تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
سینیٹ کمیٹی میں صوبائی نمائندگی کے علاوہ تیل اور گیس سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کی تقسیم کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ کمیٹی کی سطح پر اس بات پر زور دیا گیا کہ صوبوں کو ان کے جائز مالی حقوق کی فراہمی اور متعلقہ آئینی و قانونی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
بلوچستان قدرتی وسائل کے حوالے سے ملک کا اہم صوبہ ہے، جہاں تیل، گیس اور دیگر معدنی وسائل سے متعلق مالی حقوق اور آمدنی کی تقسیم طویل عرصے سے سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع رہے ہیں۔ صوبے میں وسائل کی موجودگی کے باوجود ان سے حاصل ہونے والے فوائد کی تقسیم اور مقامی آبادی تک ان کے ثمرات پہنچنے سے متعلق سوالات مختلف مواقع پر اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
تیل اور گیس کی آمدنی سے متعلق معاملات میں رائلٹی، متعلقہ محصولات اور دیگر مالی واجبات کے الگ آئینی و قانونی ضابطے موجود ہیں۔ اسی وجہ سے ان معاملات میں صوبوں کے حقوق اور وفاق کی ذمہ داریوں کا تعین متعلقہ قوانین اور مالی طریقہ کار کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
وفاقی اداروں میں بلوچستان کی نمائندگی کے حوالے سے سامنے آنے والے اعدادوشمار اس ضرورت کو بھی نمایاں کرتے ہیں کہ صوبائی کوٹے کے نفاذ، اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیوں اور مختلف انتظامی درجات میں صوبوں کی موجودگی سے متعلق جامع معلومات سامنے لائی جائیں تاکہ نمائندگی کی حقیقی صورت حال واضح ہوسکے۔
تاہم سینیٹ کمیٹی میں پیش کیے گئے اعدادوشمار اور سفارشات کو کسی نئے حکومتی فیصلے یا اس کے عملی نفاذ کے مترادف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس حوالے سے متعلقہ وفاقی وزارتوں اور اداروں کے جوابات اور آئندہ اقدامات اہم ہوں گے۔
بلوچستان کی وفاقی سطح پر نمائندگی اور قدرتی وسائل سے متعلق مالی حقوق کے معاملات پر ہونے والی اس پارلیمانی بحث کے بعد توجہ اس جانب مرکوز ہوگی کہ وفاقی حکومت صوبائی کوٹے پر عمل درآمد اور وسائل کی تقسیم سے متعلق اٹھائے گئے سوالات پر کیا مؤقف اختیار کرتی ہے اور ان معاملات میں عملی پیش رفت کے لیے کون سے اقدامات سامنے آتے ہیں۔





