اسلام آباد میں آن لائن فراڈ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 200 چینی باشندوں کی گرفتاری کی اطلاع
مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران مبینہ فراڈ نیٹ ورکس سے وابستہ افراد کو حراست میں لیا گیا، تفتیش میں شہریوں کو دھوکا دینے کے طریقوں کی جانچ جاری۔
AI Generated
- اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے وفاقی دارالحکومت میں مبینہ آن لائن فراڈ اور شہریوں کو دھوکا دینے والی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 200 چینی باشندوں کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی ہے۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کی ہدایت پر اسلام آباد کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے، جن کے دوران مبینہ طور پر آن لائن فراڈ اور دھوکا دہی کے نیٹ ورکس سے تعلق رکھنے والے افراد کو حراست میں لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق گرفتار کیے گئے چینی باشندوں پر مختلف آن لائن اسکیموں کے ذریعے شہریوں کو مالی نقصان پہنچانے کا شبہ ہے۔ ابتدائی معلومات میں ان افراد کے مبینہ فراڈ نیٹ ورکس سے روابط کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم ان روابط کی نوعیت اور ہر گرفتار شخص کے انفرادی کردار کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض مشتبہ افراد مبینہ طور پر دھوکا دہی پر مبنی فون کالز کے ذریعے شہریوں سے رابطہ کرتے تھے۔ حکام اس پہلو کی جانچ کررہے ہیں کہ ان سرگرمیوں میں شہریوں کو کس طریقے سے نشانہ بنایا جاتا تھا اور آیا اس مقصد کے لیے کوئی منظم نیٹ ورک کام کررہا تھا۔
اسلام آباد میں یہ کارروائی مبینہ سائبر فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف جاری اقدامات کا حصہ بتائی گئی ہے۔ این سی سی آئی اے کی جانب سے گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہونے کی اطلاع ہے، جس کے دوران مبینہ نیٹ ورکس کی سرگرمیوں اور ممکنہ روابط سے متعلق مزید معلومات سامنے آسکتی ہیں۔
تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں چھاپوں کے مخصوص مقامات، گرفتار افراد کے خلاف درج مقدمات، مبینہ مالی نقصان کی مجموعی رقم اور متاثرہ شہریوں کی تعداد کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ گرفتار افراد کو عدالت میں پیش کیا جاچکا ہے یا نہیں۔
رپورٹ میں گرفتاریوں اور مبینہ فراڈ سرگرمیوں سے متعلق معلومات ذرائع سے منسوب ہیں۔ اس لیے گرفتار افراد پر عائد الزامات کو ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جاسکتا۔ ان کے خلاف قانونی کارروائی اور ذمہ داری کا تعین تحقیقات اور عدالتی عمل کے بعد ہوگا۔
این سی سی آئی اے کی تحقیقات میں مبینہ فراڈ کے طریقہ کار، رابطوں اور مالی لین دین کی تفصیلات اہم ہوں گی۔ اس کارروائی سے متعلق مزید حقائق ایجنسی کے باضابطہ بیان یا قانونی کارروائی کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد واضح ہوسکیں گے۔





