سینیٹ ارکان کو تاحیات بلیو پاسپورٹ دینے کا ترمیمی بل منظور
سینیٹر عبدالقادر کے پیش کردہ بل میں ارکان سینیٹ کو قومی اسمبلی کے ارکان جیسی سہولت دینے کی تجویز، فوجداری قوانین میں ترمیم کا ایک اور بل بھی منظور۔
AI Generated
اسلام آباد: سینیٹ نے اپنے ارکان کو تاحیات بلیو پاسپورٹ فراہم کرنے سے متعلق پاسپورٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور کرلیا ہے، جس کے تحت سینیٹرز کو بھی ارکان قومی اسمبلی کی طرح یہ سہولت دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر عبدالقادر کی جانب سے پیش کردہ پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دی گئی۔ بل کا بنیادی مقصد ایوان بالا کے ارکان کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت کے معاملے میں ارکان قومی اسمبلی کے مساوی حیثیت دینا ہے۔
ترمیمی بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ سینیٹ کے ارکان بھی تاحیات بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے کے اہل ہوں، جیسا کہ بل میں ارکان اسمبلی کے لیے موجود سہولت کا حوالہ دیا گیا ہے۔
بلیو پاسپورٹ پاکستان میں سرکاری حیثیت سے متعلق مخصوص سفری دستاویز ہے۔ تاہم یہ سفارتی پاسپورٹ سے مختلف ہوتا ہے اور اس کے حامل افراد کو بیرون ملک داخلے یا ویزے سے متعلق تمام شرائط سے خودکار استثنا حاصل نہیں ہوتا۔
سینیٹ سے منظوری کے باوجود یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ بل کی منظوری اور اس کا باقاعدہ قانون بننا الگ مراحل ہیں۔ متعلقہ آئینی و قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ہی مجوزہ ترمیم نافذ ہوسکے گی۔
اجلاس کے دوران سینیٹر فوزیہ ارشد کی جانب سے پیش کردہ فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل بھی منظور کرلیا گیا۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں اس بل کی مجوزہ دفعات اور تبدیلیوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
دونوں بلوں کی منظوری کے ساتھ سینیٹ میں قانون سازی کا عمل آگے بڑھا ہے۔ بلیو پاسپورٹ سے متعلق ترمیم کے حتمی نفاذ اور اس کی شرائط کی تفصیلات متعلقہ قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد واضح ہوں گی۔





