خوابِ غفلت میں قوم اور درویش کی چیخ — جلال الدین سے کیسینڈرا تک
قوموں کی تاریخ میں بعض اوقات ایسے لمحے آتے ہیں جب خطرات دروازے پر دستک دے رہے ہوتے ہیں، مگر معاشرہ اپنی روزمرہ مصروفیات، سیاسی کشمکش اور سطحی تفریح میں اس قدر الجھا ہوتا ہے کہ آنے والے طوفان کی آہٹ تک سنائی نہیں دیتی۔ ایسے حالات میں اگر کوئی صاحبِ فکر مستقبل کے خدشات کی نشاندہی کرے تو اسے سننے کے بجائے اس کی بات کو مبالغہ آرائی، مایوسی یا غیرضروری تشویش قرار دے دیا جاتا ہے۔
AI Generated
گزشتہ شام ہمارے محترم دوست، باخبر تجزیہ نگار اور دانشور احمد خان اچکزئی نے ایک پیغام بھیجا جس نے مجھے دیر تک سوچنے پر مجبور کیے رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم خوابِ غفلت میں مبتلا ہے۔ اسے سنجیدہ فکر اور آنے والے بحرانوں سے خبردار کرنے والی تحریروں کے بجائے تفریحی مواد زیادہ پسند ہے۔ جو لوگ مستقبل کے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں، ان کی آواز اکثر نظرانداز کردی جاتی ہے، لیکن جب بحران حقیقت بن کر سامنے آتا ہے تو انہی انتباہات کی اہمیت سمجھ میں آنے لگتی ہے۔
احمد خان اچکزئی کے اس پیغام میں محض شکوہ نہیں تھا بلکہ ایک حساس انسان کا وہ کرب پوشیدہ تھا جو اپنے معاشرے کو مشکلات کی جانب بڑھتے دیکھتا ہے، مگر اس کی بات سننے والے کم ہوتے ہیں۔
انہوں نے اپنی بات سمجھانے کے لیے جلال الدین خوارزم شاہ اور منگول یلغار کی تاریخی مثال پیش کی۔ اس مثال کا بنیادی سبق آج بھی اہم ہے، اگرچہ تاریخ کے واقعات کو درست ترتیب میں سمجھنا ضروری ہے۔
جلال الدین خوارزم شاہ تیرہویں صدی کا وہ حکمران تھا جس نے منگولوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کے مقابلے میں غیرمعمولی مزاحمت کی۔ 1221ء میں جنگِ پروان میں اس کی افواج نے منگول لشکر کو شکست دی۔ بعدازاں چنگیز خان کے مقابلے میں اسے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ مختلف علاقوں میں اپنی سیاسی و عسکری حیثیت برقرار رکھنے کی جدوجہد کرتا رہا۔
جلال الدین 1231ء میں وفات پاگیا، جبکہ بغداد کی تباہی 1258ء میں ہوئی۔ اس لیے اسے آخری عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کے ساتھ براہِ راست مکالمے میں پیش کرنا تاریخی طور پر درست نہیں۔ تاہم جلال الدین کی مزاحمت اور بغداد کے بعد کے المناک انجام سے ایک مشترکہ سبق ضرور حاصل ہوتا ہے: جب ریاستیں بدلتے ہوئے خطرات کو سمجھنے، اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے اور داخلی اختلافات پر قابو پانے میں ناکام رہتی ہیں تو ان کی کمزوریاں تباہ کن نتائج پیدا کرسکتی ہیں۔
1258ء میں ہلاکو خان کی افواج نے بغداد پر حملہ کیا اور عباسی خلافت کا خاتمہ ہوگیا۔ یہ واقعہ صرف ایک شہر کی تباہی نہیں بلکہ اس دور کے ایک بڑے سیاسی اور علمی مرکز کے زوال کی علامت بن گیا۔
تاریخ کا یہ باب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اقتدار کی طوالت، ماضی کی عظمت اور وسائل کی فراوانی کسی قوم کے مستقل تحفظ کی ضمانت نہیں ہوتے۔ ریاستوں کی حقیقی طاقت ان کی بصیرت، اداروں کی مضبوطی، عوامی اعتماد اور آنے والے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
احمد خان اچکزئی کے پیغام نے مجھے یونانی اساطیر کی ایک اور معروف شخصیت، کیسینڈرا، کی یاد دلائی۔
یونانی داستانوں میں کیسینڈرا کو مستقبل کے خطرات دیکھنے کی صلاحیت حاصل تھی، مگر اس کے ساتھ یہ المیہ وابستہ تھا کہ لوگ اس کی پیش گوئیوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔ وہ ٹرائے کی ممکنہ تباہی سے خبردار کرتی رہی، لیکن اس کی آواز کو وہ اہمیت نہ مل سکی جس کی وہ مستحق تھی۔
یہ داستان محض ایک افسانوی کردار کی کہانی نہیں بلکہ انسانی نفسیات کی ایک گہری علامت ہے۔ ہم اکثر وہ بات سننا پسند کرتے ہیں جو ہمارے موجودہ خیالات کی تائید کرے، جبکہ ایسی حقیقت جو ہماری آسودگی، مفادات یا خوش فہمیوں کو چیلنج کرے، ہمیں ناگوار گزرتی ہے۔
اسی کیفیت کو بعض فکری مباحث میں کیسینڈرا کمپلیکس سے تعبیر کیا جاتا ہے، اگرچہ یہ کوئی باقاعدہ طبی تشخیص نہیں۔ اس سے مراد وہ صورتحال ہے جس میں کوئی شخص ممکنہ خطرے کی نشاندہی کرتا ہے، مگر اس کی تنبیہ کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: جب قوم سننے کے لیے تیار نہ ہو تو صاحبِ قلم کیا کرے؟ کیا وہ خاموش ہوجائے؟ کیا وہ اپنے الفاظ کو محض تفریح کا ذریعہ بنا دے؟ یا پھر وہ سچائی اور اجتماعی مفاد کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے؟
میرے نزدیک قلم کار کی اصل ذمہ داری یہی ہے کہ وہ معاشرے کو آئینہ دکھائے۔ اس کا کام صرف لوگوں کی پسند کے مطابق لکھنا نہیں بلکہ ان حقائق کی نشاندہی کرنا بھی ہے جن سے معاشرہ نظریں چرا رہا ہو۔
تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ انتباہ دلیل، تحقیق اور دیانت داری پر مبنی ہو۔ ہر اندیشہ حقیقت نہیں ہوتا اور ہر پیش گوئی درست ثابت نہیں ہوتی۔ ایک ذمہ دار تجزیہ نگار کا امتیاز یہی ہے کہ وہ جذباتی نعروں کے بجائے شواہد کی بنیاد پر خطرات کی نشاندہی کرے۔
آج پاکستان کے حالات پر نظر ڈالیں تو ہمیں بھی کئی ایسے چیلنجز دکھائی دیتے ہیں جنہیں نظرانداز کرنا مستقبل کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
پہلا بڑا چیلنج معاشی عدم استحکام ہے۔
قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، مہنگائی، محدود معاشی مواقع، بے روزگاری اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مشکل مذاکرات ہماری معیشت پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ عام شہری کے لیے زندگی کے بنیادی اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے، جبکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
یہاں سوال صرف معاشی اعدادوشمار کا نہیں بلکہ قومی ترجیحات کا بھی ہے۔ کیا ہمارے وسائل تعلیم، صحت، روزگار اور عوامی فلاح پر اس انداز میں خرچ ہورہے ہیں جس کی ملک کو ضرورت ہے؟ کیا حکمران اور بااثر طبقات اپنے فیصلوں میں عام شہری کی مشکلات کو مناسب اہمیت دیتے ہیں؟
میری رائے میں جب تک معاشی پالیسیوں کا مرکز عام انسان کی زندگی میں حقیقی بہتری نہیں ہوگا، ترقی کے دعوے عوام کے اعتماد میں تبدیل نہیں ہوسکیں گے۔
دوسرا بڑا چیلنج دہشت گردی اور داخلی سلامتی ہے۔
خیبرپختونخوا اور بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات قومی سلامتی اور عوامی زندگی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ان واقعات میں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کا ضیاع ایک ایسا قومی المیہ ہے جسے محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔
دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد نہایت ضروری ہیں۔
اس مسئلے کو سیاسی اختلافات کی نذر کرنے کے بجائے قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا حصہ ہے، لیکن شہریوں کے تحفظ جیسے بنیادی معاملے پر سنجیدہ تعاون ناگزیر ہے۔
تیسرا اور شاید سب سے پیچیدہ چیلنج فکری انحطاط ہے۔
آج معلومات کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا معلومات کی فراوانی نے ہمارے معاشرے میں سنجیدہ سوچ، تحقیق اور مکالمے کو بھی فروغ دیا ہے؟
سوشل میڈیا نے اظہار کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں، مگر اس کے ساتھ فوری تفریح، غیرضروری تنازعات اور توجہ حاصل کرنے کی دوڑ نے سنجیدہ موضوعات کے لیے جگہ محدود کردی ہے۔
بسا اوقات کسی اہم قومی مسئلے پر تحقیق سے لکھی گئی تحریر چند سو افراد تک پہنچتی ہے، جبکہ ایک معمولی تنازع یا تفریحی ویڈیو لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کرلیتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف نوجوانوں کو قصوروار ٹھہرانے سے حل نہیں ہوگا۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہم نے ان کے لیے تعلیم، روزگار، تحقیق، کھیل، تخلیقی سرگرمیوں اور مثبت سماجی شرکت کے کتنے مواقع پیدا کیے ہیں۔
جب کسی نوجوان کو اپنے مستقبل کے بارے میں امید کم دکھائی دے تو وہ فوری تسکین فراہم کرنے والی سرگرمیوں کی طرف زیادہ مائل ہوسکتا ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل تفریح پر تنقید کے ساتھ بہتر متبادل فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرے کے اہلِ قلم، اساتذہ، دانشوروں، صحافیوں اور سنجیدہ فکر رکھنے والے شہریوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔
انہیں صرف مسائل کی نشاندہی نہیں کرنی بلکہ ان کے ممکنہ حل بھی پیش کرنے ہیں۔ نوجوانوں کو مایوسی کے اندھیروں میں چھوڑنے کے بجائے انہیں یہ اعتماد دینا ہے کہ علم، محنت، تنظیم اور اجتماعی کوشش سے حالات تبدیل کیے جاسکتے ہیں۔
قومیں ہمیشہ ایک ہی آواز سے بیدار نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات تبدیلی کے لیے برسوں کی جدوجہد، مسلسل مکالمے اور اجتماعی تجربات درکار ہوتے ہیں۔ مگر اس حقیقت سے قلم کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔
اگر ایک تحریر کسی نوجوان کو سوچنے پر مجبور کردے، کسی ذمہ دار شخص کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کا موقع دے یا کسی معاشرتی مسئلے پر سنجیدہ بحث کا آغاز کردے تو وہ تحریر اپنا مقصد حاصل کرچکی ہوتی ہے۔
جلال الدین خوارزم شاہ کی تاریخی مزاحمت ہمیں عزم اور حوصلے کا سبق دیتی ہے، جبکہ کیسینڈرا کی داستان اس المیے کی یاد دلاتی ہے کہ خطرے کی درست نشاندہی بھی بے اثر ہوسکتی ہے اگر معاشرہ سننے کے لیے تیار نہ ہو۔
لیکن ان دونوں مثالوں سے ایک اور سبق بھی ملتا ہے: محض خطرے سے خبردار کرنا کافی نہیں، اس سے نمٹنے کے لیے اجتماعی بصیرت، مؤثر ادارے اور بروقت فیصلے بھی ضروری ہیں۔
احمد خان اچکزئی کے پیغام کا اصل درد بھی میرے نزدیک یہی ہے کہ ہم آنے والے کل کی فکر کرنے کے بجائے آج کی وقتی مصروفیات میں گم ہوتے جارہے ہیں۔
میں اس احساس سے اتفاق کرتا ہوں کہ معاشرے کو جگانے والی آوازیں خاموش نہیں ہونی چاہئیں۔ تاہم ان آوازوں کو تحقیق، تحمل اور ذمہ داری کے ساتھ بلند ہونا چاہیے تاکہ ان کی سچائی محض جذباتی تاثر نہیں بلکہ قابلِ اعتماد دلیل بن سکے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی قومی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ معاشی انصاف، تعلیم، سلامتی، روزگار اور فکری تربیت کو سیاسی نعروں سے نکال کر عملی اقدامات کا حصہ بنائیں۔
ہمیں ایسے معاشرے کی تشکیل کی کوشش کرنی ہوگی جہاں سوال پوچھنا جرم نہ سمجھا جائے، اختلافِ رائے کو دشمنی نہ بنایا جائے اور آنے والے خطرات کی نشاندہی کرنے والے افراد کو سنجیدگی سے سنا جائے۔
کیونکہ تاریخ کا سب سے بڑا المیہ صرف یہ نہیں کہ کوئی قوم خطرات کو بروقت پہچان نہ سکے، بلکہ یہ بھی ہے کہ خطرات کی نشاندہی کرنے والی آوازیں موجود ہوں اور پھر بھی انہیں سننے سے انکار کردیا جائے۔
اس لیے قلم کو خاموش نہیں ہونا چاہیے۔
اسے لکھتے رہنا چاہیے، سوال اٹھاتے رہنا چاہیے، غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہنا چاہیے اور امید کے راستے بھی دکھاتے رہنا چاہیے۔
ممکن ہے آج یہ آواز چند لوگوں تک پہنچے، مگر آنے والے وقت میں یہی تحریریں اس بات کی گواہی بن سکتی ہیں کہ جب قوم کے سامنے خطرات موجود تھے تو کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو خاموش نہیں رہے۔
درویش کا کام صرف چیخنا نہیں، اندھیرے میں چراغ جلانا بھی ہے۔ اور قلم کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ خوف کے ساتھ امید، تنقید کے ساتھ اصلاح اور انتباہ کے ساتھ راستہ بھی دکھائے۔
