سائبر کرائم کیس میں اینکر پرسن اقرار الحسن کی درخواست ضمانت مسترد
کراچی کی عدالت نے سوشل میڈیا پر مبینہ ریاست مخالف مواد کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست مسترد کردی، اقرار الحسن 26 اکتوبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔
کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے اینکر پرسن اقرار الحسن کی سائبر کرائم مقدمے میں درخواست ضمانت مسترد کردی۔ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ ریاست مخالف، جھوٹا اور ہتک آمیز مواد نشر کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق اقرار الحسن کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے کراچی سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں مقدمہ نمبر 101/2026 درج ہے، جس میں پیکا قانون کی دفعات 9، 10، 20، 24 اور 26 اے شامل ہیں۔
اس سے قبل 19 اکتوبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ گلریز میمن نے این سی سی آئی اے کی جانب سے جسمانی ریمانڈ میں مزید آٹھ روز کی توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اقرار الحسن کو 26 اکتوبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا تھا کہ تفتیشی ادارے کو جسمانی تحویل کے لیے مناسب وقت دیا جاچکا ہے، جبکہ مزید ریمانڈ کے لیے کوئی ٹھوس وجہ پیش نہیں کی گئی۔
اقرار الحسن کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے اپنے مؤکل کی ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے این سی سی آئی اے کو نوٹس جاری کیا تھا۔
تفتیشی ادارے کے مطابق اقرار الحسن کے قبضے سے حاصل کردہ ڈیجیٹل آلات اور سوشل میڈیا ریکارڈ کا فرانزک معائنہ تفتیش کا حصہ ہے۔ تاہم مقدمے میں عائد الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے اور تفتیش جاری ہے۔





