وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس، دہشت گردی کے خاتمے کا عزم
وزیراعظم نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کو مجبوری قرار دیتے ہوئے امن و امان کی بحالی، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد بہتر بنانے اور صوبے میں ترقیاتی اقدامات پر زور دیا۔
پشاور: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گورنر ہاؤس پشاور میں صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے باعث وفاقی حکومت کو ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔ ان کے مطابق حکومت خیبرپختونخوا میں امن کی بحالی اور ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے سابق صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی تربیت، جدید آلات اور ضروری وسائل کی فراہمی پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔
شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو 2010 سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے 800 ارب روپے فراہم کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے وسائل کے باوجود صوبے میں دہشت گردی کا دوبارہ بڑھنا تشویش ناک ہے۔
وزیراعظم کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے مذاکرات کی کوششیں کیں اور انہوں نے صدر آصف علی زرداری سے بھی مشاورت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل نہ ہونے پر حکومت کو آئینی اقدامات کرنا پڑے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کی صورتحال بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ صوبے کے عوام کو امن کے ساتھ بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور دیگر وفاقی وزرا و اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے بچوں اور ایک استاد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گورنر خیبرپختونخوا کو جائے حادثہ کا دورہ کرنے اور واقعے کی مکمل تحقیقات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں 11 اکتوبر کو ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے صوبے کے منتخب مینڈیٹ کے خلاف قرار دیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت اور متعلقہ ادارے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بحالی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کریں گے۔





