وزیر داخلہ محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سیکیورٹی تعاون بڑھانے کا فیصلہ

گلوبل سیکیورٹی فورم کے موقع پر اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے، پاکستان اور قطر نے مستقبل میں تعاون کے نئے امکانات پر غور کیا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سیکیورٹی تعاون بڑھانے کا فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان اور قطر نے داخلی سلامتی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون مزید بڑھانے اور سیکیورٹی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ اتفاق منگل 20 اکتوبر کو دوحہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور قطر کے وزیر داخلہ شیخ خلیفہ بن حمد بن خلیفہ آل ثانی کے درمیان ملاقات میں ہوا۔ قطری وزیر داخلہ ملک کی داخلی سیکیورٹی فورس لخویا کے کمانڈر بھی ہیں۔

وزارت داخلہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق دونوں وزرائے داخلہ نے داخلی سلامتی سے متعلق مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کی وزارت ہائے داخلہ کے درمیان روابط اور باہمی شراکت داری مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

بات چیت کے دوران مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور علاقائی امن و استحکام سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی کے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور مسلسل رابطے اہم ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اور قطر خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مل کر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے داخلی سلامتی اور علاقائی صورتحال سے متعلق باہمی دلچسپی کے معاملات میں قطر کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے پاکستانی عزم کا اعادہ کیا۔

قطر کے وزیر داخلہ شیخ خلیفہ بن حمد بن خلیفہ آل ثانی نے ملاقات کے دوران کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

یہ ملاقات دوحہ میں ہونے والے گلوبل سیکیورٹی فورم 2026 کے موقع پر ہوئی، جس میں مختلف ممالک کے نمائندے علاقائی سلامتی، تنازعات کے حل اور بین الاقوامی تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔

اس سے ایک روز قبل 19 اکتوبر کو فورم سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا تھا کہ تنازعات کو روکنے کے لیے مسلسل مذاکرات، باہمی اعتماد اور سفارتی رابطے ضروری ہیں۔ انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا تھا۔

وزیر داخلہ نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کو مشترکہ چیلنج قرار دیتے ہوئے ممالک کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ان کے مطابق خطے میں دیرپا امن کے لیے محض ایک ملاقات کافی نہیں بلکہ مستقل سفارتی کوششیں ضروری ہیں۔

پاکستان اور قطر کے درمیان داخلی سلامتی کے معاملات پر رابطے پہلے بھی جاری رہے ہیں۔ رواں سال 28 جولائی کو دوحہ میں دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ کی ملاقات میں بھی سیکیورٹی تعاون بڑھانے اور دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی تھی۔

تازہ ملاقات میں دونوں ممالک نے اس تعاون کو مزید آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم سرکاری اعلامیے میں کسی نئے تحریری معاہدے، مشترکہ منصوبے، مالی وسائل یا اقدامات پر عمل درآمد کی مخصوص مدت کا اعلان نہیں کیا گیا۔

پاکستان اور قطر کے درمیان حالیہ رابطے ایسے وقت میں جاری ہیں جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال علاقائی سلامتی اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے خصوصی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ دونوں ممالک نے داخلی سلامتی کے ساتھ خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

خبر شیئر کریں: