11 سال بعد مالدیپ کے صدر پاکستان پہنچ گئے، اہم معاہدوں کی تیاری

صدر ڈاکٹر محمد معیزو تین روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے، وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری سے ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون پر بات چیت ہوگی۔

11 سال بعد مالدیپ کے صدر پاکستان پہنچ گئے، اہم معاہدوں کی تیاری
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معزو اور خاتونِ اول ساجدہ محمد 20 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے۔ تصویر: ایکس/@presidencymv

اسلام آباد: مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ گزشتہ 11 برسوں میں مالدیپ کے کسی صدر کا یہ پہلا دورۂ پاکستان ہے، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم ملاقاتیں اور معاہدے متوقع ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق صدر محمد معیزو منگل 20 اکتوبر کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر اسلام آباد پہنچے۔ ان کے ہمراہ مالدیپ کی خاتون اول ساجدہ محمد، کابینہ کے وزرا اور اعلیٰ سرکاری حکام پر مشتمل وفد بھی پاکستان آیا ہے۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور اور وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے مالدیپ کے صدر اور ان کے وفد کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔

مالدیپ کے ایوان صدر کے مطابق صدر محمد معیزو اور خاتون اول کی آمد پر 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ دورے کے سرکاری پروگرام کے تحت وزیراعظم ہاؤس میں ان کا باضابطہ استقبال بھی طے ہے۔

دورے کے دوران مالدیپ کے صدر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان محدود سطح کے مذاکرات کے علاوہ وفود کی سطح پر بھی بات چیت ہوگی۔ مذاکرات میں پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق مذاکرات کے اہم موضوعات میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، سیاحت، زراعت، دفاع، بحری سلامتی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی سطح پر روابط کا فروغ شامل ہیں۔ دونوں ممالک کے رہنما علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

صدر محمد معیزو اپنے پاکستانی ہم منصب صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کریں گے۔ صدر مملکت کی جانب سے مالدیپ کے صدر کے اعزاز میں سرکاری عشائیے کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی شرکت متوقع ہے۔

دورے کے دوران پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔ تاہم سرکاری ذرائع نے تاحال ان مجوزہ معاہدوں کی حتمی تعداد، مالی مالیت یا مکمل شرائط جاری نہیں کیں۔

دونوں ممالک کے کاروباری تعلقات بڑھانے کے لیے پاکستان مالدیپ بزنس فورم کا انعقاد بھی دورے کے پروگرام میں شامل ہے۔ فورم کا مقصد پاکستانی اور مالدیپی کاروباری شخصیات کے درمیان رابطے بڑھانا اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔

پاکستان اور مالدیپ کے درمیان سیاحت، سمندری شعبے اور ماحولیاتی تعاون کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ دونوں ممالک کو سمندری وسائل، ساحلی معیشت اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات جیسے مشترکہ معاملات کا سامنا ہے، جن پر باہمی تعاون بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان اور مالدیپ اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 60ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات 26 جولائی 1966 کو قائم ہوئے تھے۔

اس سے قبل مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم نے مئی 2015 میں پاکستان کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ موجودہ دورہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت کے درمیان براہ راست سفارتی روابط کی اہم کڑی ہے۔

مالدیپ کے صدر کا تین روزہ دورہ 22 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ سرکاری ملاقاتوں اور مجوزہ معاہدوں کی تفصیلات متعلقہ مذاکرات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

خبر شیئر کریں: