پاک ایران سرحدی تنازع حل، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ تہران میں اہم پیش رفت

ایرانی قیادت سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں میں سرحدی مسائل کے حل کی تصدیق، امریکا سے مذاکرات کے لیے تہران نے اپنی شرائط پوری کرنے پر زور دیا۔

پاک ایران سرحدی تنازع حل، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ تہران میں اہم پیش رفت

اسلام آباد: پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں بند ہونے والی سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھول دی گئی ہیں۔ یہ پیش رفت چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران سامنے آئی، جہاں انہوں نے ایرانی صدر سمیت اعلیٰ سیاسی اور سیکیورٹی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق منگل 20 اکتوبر کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے و سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی سے ملاقاتیں کیں۔

ایرانی حکام کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے محسن رضائی سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستان اور ایران کی سرحد سے متعلق مسائل حل کرلیے گئے ہیں اور سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھول دی گئی ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات میں بھی انہوں نے سرحدی مسائل کو عارضی اور تکنیکی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے گزرگاہوں کی بحالی کی تصدیق کی۔

اس سے قبل پاکستان نے سیکیورٹی خدشات، اسمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی انتظامات بہتر بنانے کے لیے تفتان اور گبد رمدان کی تجارتی گزرگاہوں پر سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کردی تھیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں سرحد کے دونوں جانب مال بردار گاڑیاں پھنس گئی تھیں اور تاجروں کو مشکلات کا سامنا تھا۔

بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت مقامی معیشت اور روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔ سرحدی گزرگاہوں کی بحالی سے تجارتی سرگرمیوں اور لوگوں کی آمدورفت میں آسانی پیدا ہونے کی توقع ہے، تاہم مختلف گزرگاہوں پر معمول کی سرگرمیوں کی مکمل بحالی سے متعلق الگ انتظامی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

دورۂ تہران میں سرحدی معاملات کے علاوہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور تعطل کا شکار سفارتی مذاکرات بھی زیر بحث آئے۔ پاکستانی وفد نے ایسے وقت میں ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں جب مشرقِ وسطیٰ میں نئے واقعات کے باعث علاقائی صورتحال مزید پیچیدہ ہورہی ہے۔

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ ایران اپنا افزودہ جوہری مواد ملک سے باہر منتقل نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق یہ مواد ایران کا قومی اثاثہ ہے اور اسے ملک کے اندر استعمال کرنے کے لیے محفوظ رکھا جائے گا۔

محسن رضائی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کو اعتماد کی بحالی سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو پہلے ایران کی پیش کردہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی اسی مؤقف کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران پہلے ہی نیویارک میں اپنی سات شرائط پیش کرچکا ہے اور ان پر عمل درآمد کے بغیر امریکا کے ساتھ اعتماد بحال نہیں ہوسکتا۔

قالیباف نے امریکی انتظامیہ پر اسلام آباد میں طے پانے والی سابقہ مفاہمت کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کے مطابق امریکی اقدامات اور دھمکیوں نے تہران کے خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ ایرانی حکام کے مطابق صدر پزشکیان نے مؤقف اختیار کیا کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔

ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیراعظم شہباز شریف اور قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی جانب سے نیک خواہشات بھی پہنچائیں اور دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے امریکی پیغام کے جواب میں اپنا مؤقف پاکستانی وفد تک پہنچایا، تاہم اس پیغام اور ایران کے جواب کی تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے توانائی اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی اطلاعات نے علاقائی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کا پابند ہے اور دوسری جانب ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امریکا اور تہران کے درمیان سفارتی رابطوں کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق رپورٹ کی اشاعت تک پاکستانی حکام کی جانب سے ملاقاتوں کے نتائج پر تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا تھا۔ تاہم دورے سے واقف ایک اہلکار نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا اور پاک ایران سرحد کی بحالی کی تصدیق کی۔

سرحدی گزرگاہوں کی بحالی کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جارہا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں۔

خبر شیئر کریں: