امریکا ایران کشیدگی کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق دورے کا بنیادی مقصد دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مضبوط بنانا ہے، امریکا ایران مذاکرات اور علاقائی صورتحال بھی زیر بحث آئے گی۔

امریکا ایران کشیدگی کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے

اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے منگل 20 اکتوبر کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تہران آمد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ہمراہ پاکستانی حکام کا ایک وفد بھی موجود ہے۔

دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایرانی حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات، تعاون کے فروغ اور خطے کی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستانی فوجی سربراہ کا دورہ بنیادی طور پر دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے سے متعلق ہے۔

ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں مذاکرات سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، تاہم دورے کا زیادہ تر محور دوطرفہ تعلقات اور تعاون کا فروغ ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور مذاکرات کی شرائط اہم مسائل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

پاکستان رواں سال امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں میں سرگرم رہا ہے۔ اسلام آباد کی کوشش رہی ہے کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کریں اور خطے میں مزید تصادم سے بچا جاسکے۔

اس سے قبل فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں بھی علاقائی کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز میں آمدورفت کی بحالی اور تنازع کے خاتمے کے لیے ممکنہ اقدامات پر بات چیت ہوئی تھی۔

آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس راستے پر کشیدگی یا آمدورفت میں رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ بیان میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی تجویز کا ذکر کیا تھا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے شرائط پر اختلافات برقرار ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دوحہ میں گلوبل سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان پائیدار امن کے قیام کے لیے صبر، اعتماد اور مسلسل سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھرپور کوشش کی ہے۔


فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تہران آمد کی تصدیق ہوچکی ہے، تاہم اس دورے میں ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور ان کے ممکنہ نتائج سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

خبر شیئر کریں: