پاکستان کی ٹیکس اصلاحات کو بڑے خطرات، عالمی بینک نے خبردار کردیا
67 کروڑ ڈالر کے پروگراموں میں پیش رفت کے باوجود اہم چیلنجز برقرار
AI Generated
اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان میں ٹیکس اور مالیاتی اصلاحات سے متعلق دو اہم پروگراموں کی پیش رفت کو مجموعی طور پر معتدل اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے ان کے مؤثر نفاذ میں نمایاں خطرات کی نشاندہی کردی ہے۔
دستیاب جائزے کے مطابق دونوں پروگراموں کی مجموعی مالیت تقریباً 67 کروڑ ڈالر ہے، جن کا مقصد ٹیکس وصولیوں میں اضافہ، سرکاری خدمات کی بہتری اور مالی نظم و نسق کو مضبوط بنانا ہے۔
عالمی بینک نے پروگراموں پر عمل درآمد کی مجموعی صورتحال کو ’معتدل اطمینان بخش‘ قرار دیا ہے، تاہم ان کے مقاصد کے حصول سے متعلق خطرات کو ’نمایاں‘ کی درجہ بندی دی گئی ہے۔
ان پروگراموں کا ایک اہم ہدف پاکستان کی ٹیکس آمدن کو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 15 فیصد تک پہنچانا ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹیکس وصولیوں کے نظام کو مؤثر بنانے اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی بہتر کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔
جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصلاحاتی اقدامات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن ان پر مکمل عمل درآمد اور مقررہ اہداف کا حصول اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
ٹیکس اصلاحات کی کامیابی کے لیے محصولات جمع کرنے والے اداروں کی استعداد، انتظامی شفافیت اور اصلاحاتی منصوبوں پر بروقت عمل درآمد کو اہم سمجھا جارہا ہے۔
پاکستان کے لیے ٹیکس آمدن میں اضافہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کا براہِ راست تعلق حکومتی مالی وسائل، بجٹ کے انتظام، قرضوں کی ادائیگی اور تعلیم و صحت سمیت بنیادی خدمات کے لیے دستیاب فنڈز سے ہے۔





