پاکستان میں 15 لاکھ بچوں کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا، نئی تحقیق میں تشویش ناک اعدادوشمار
انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 12 سے 17 سال کے ہر 16 میں سے تقریباً ایک بچہ ایک سال کے دوران جنسی استحصال یا بدسلوکی سے متاثر ہوا، تحقیق نے بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ پر سنگین سوالات اٹھا دیے
اسلام آباد: پاکستان میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق نئی تحقیق میں تشویش ناک اعدادوشمار سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 15 لاکھ بچوں کو ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کی کسی نہ کسی شکل کا سامنا کرنا پڑا۔
14 اکتوبر کو سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے اس عمر کے ہر 16 بچوں میں سے تقریباً ایک بچہ آن لائن جنسی استحصال یا بدسلوکی سے متاثر ہوا۔ یہ اعدادوشمار پاکستان میں بچوں کے لیے ڈیجیٹل ماحول کے تحفظ اور انٹرنیٹ پر موجود خطرات کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
تحقیق میں متاثرہ بچوں کی تعداد تقریباً 15 لاکھ بتائی گئی ہے، تاہم یہ تعداد سروے اور تحقیق کی بنیاد پر لگایا گیا تخمینہ ہے، نہ کہ پولیس یا متعلقہ اداروں میں درج ہونے والے مقدمات کی مجموعی تعداد۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ جنسی استحصال کے متعدد واقعات مختلف وجوہات کی بنا پر متعلقہ اداروں تک رپورٹ نہیں ہو پاتے۔
بچوں کے خلاف ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی جنسی بدسلوکی میں آن لائن ہراسانی، جنسی نوعیت کی ناپسندیدہ گفتگو، نامناسب تصاویر یا مواد کے حصول کے لیے دباؤ اور نجی معلومات یا تصاویر کے ذریعے دھمکیاں دینے جیسے رویے شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم دستیاب خلاصے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تحقیق میں ان میں سے کن رویوں کو کس تعریف کے تحت شمار کیا گیا۔
پاکستان میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بچوں کے لیے تعلیم، معلومات، رابطوں اور تفریح کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بچوں کی ذاتی معلومات، تصاویر اور آن لائن سرگرمیوں کے غلط استعمال سے متعلق خطرات بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
بچوں کے آن لائن استحصال کا ایک پیچیدہ پہلو یہ ہے کہ متاثرہ بچے اکثر خوف، شرمندگی یا کسی ممکنہ ردعمل کے خدشے کے باعث اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں والدین یا اساتذہ کو آگاہ نہیں کر پاتے۔ ایسی صورت حال میں بدسلوکی کی نشاندہی اور بروقت مدد کی فراہمی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے نتائج والدین اور تعلیمی اداروں کے لیے بھی اہم پیغام رکھتے ہیں۔ بچوں کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال، ذاتی معلومات کے تحفظ اور نامناسب رابطوں کی نشاندہی کے بارے میں عمر کے مطابق آگاہی دینا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ایسا ماحول فراہم کرنا بھی اہم ہے جہاں بچے کسی ناخوش گوار آن لائن تجربے کے بارے میں خوف کے بغیر بات کر سکیں۔
آن لائن جنسی استحصال کا سامنا کرنے والے بچوں کی شناخت اور ذاتی معلومات کا تحفظ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے واقعات میں متاثرہ بچوں کی تصاویر، گفتگو یا دیگر نجی تفصیلات کو غیر ضروری طور پر پھیلانا ان کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں سامنے آنے والے اعدادوشمار بچوں کے تحفظ سے متعلق سرکاری اداروں، قانون نافذ کرنے والے محکموں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ذمہ داریوں کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ آن لائن شکایات کے محفوظ اور قابلِ رسائی نظام، بروقت قانونی کارروائی اور متاثرہ بچوں کو نفسیاتی و سماجی مدد کی فراہمی اس مسئلے سے نمٹنے کے اہم پہلو ہیں۔
تاہم دستیاب رپورٹ میں تحقیق کے مکمل طریقہ کار، سروے میں شامل بچوں کی تعداد اور مختلف صوبوں یا شہروں کے الگ اعدادوشمار کی تفصیلات موجود نہیں۔ اس لیے کسی مخصوص علاقے کو سب سے زیادہ متاثرہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
پاکستانی بچوں کے بارے میں سامنے آنے والی اس تحقیق نے ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی بڑھنے کے ساتھ بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے انتظامات بھی مؤثر بنانا ہوں گے، تاکہ ڈیجیٹل دنیا میں ان کی تعلیم، تفریح اور رابطوں کے مواقع محفوظ رہ سکیں۔





