روس کو نیٹو کا سخت پیغام، رکن ملک پر حملے کی صورت میں بھرپور جواب کا انتباہ
نیٹو کے اعلیٰ فوجی کمانڈر نے دفاعی اتحاد کے ردعمل کی وضاحت کی؛ یورپی حکومتوں کو تخریب کاری، ڈرون اور سائبر خطرات پر تشویش۔
وارسا: نیٹو کے اعلیٰ فوجی کمانڈر جنرل الیکسس گرنکیوچ نے خبردار کیا ہے کہ اتحاد کے کسی رکن ملک پر حملے کی صورت میں متعلقہ جارحانہ فوجی نظام کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ وارسا سیکیورٹی فورم میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیٹو بنیادی طور پر دفاعی اتحاد ہے اور کسی بھی حملے کو بے اثر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق اتحاد کی دفاعی حکمت عملی میں حملہ روکنا، اس کی شدت کم کرنا اور حملہ آور کی جنگی صلاحیت کو ناکام بنانا شامل ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب یورپی ممالک روس سے منسوب تخریب کاری، ڈرون دراندازی اور سائبر حملوں کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ ماسکو ایسے الزامات کے بارے میں مختلف مواقع پر اپنا مؤقف پیش کرتا رہا ہے۔
نیٹو کی قیادت کا کہنا ہے کہ اجتماعی دفاع کے عزم کا مقصد جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ کسی ممکنہ حملے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ اس بیان کو فوری فوجی کارروائی کا اعلان سمجھنا درست نہیں؛ یہ مستقبل میں حملے کی صورت میں ردعمل سے متعلق انتباہ ہے۔





