تبت میں شدید زلزلہ، 16 افراد ہلاک، سیکڑوں گھر تباہ
زخمیوں کی تعداد 65 ہوگئی، 12 ہزار سے زیادہ افراد محفوظ مقامات پر منتقل، امدادی کارروائیاں جاری
بیجنگ: چین کے علاقے تبت میں 7 شدت کے زلزلے سے کم از کم 16 افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوگئے، جبکہ سیکڑوں گھر تباہ ہوگئے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور 12 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔
زلزلہ جمعرات 22 اکتوبر کی رات مقامی وقت کے مطابق 10 بج کر 33 منٹ پر آیا۔ اس کا مرکز شمالی تبت کے ناگچو علاقے میں تھا، جو کم آبادی والا پہاڑی علاقہ ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں 32 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی تھی، تاہم جمعہ کو مقامی حکومت نے تعداد بڑھ کر 65 ہونے کی اطلاع دی۔ زخمیوں میں سے 11 کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق زلزلے سے کم از کم 339 رہائشی عمارتیں اور مویشیوں کے 20 باڑے منہدم ہوئے۔ متاثرہ علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی رابطوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے لاپتا افراد کی تلاش اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
امدادی ٹیمیں متاثرہ آبادیوں میں پہنچ کر نقصان کا جائزہ لے رہی ہیں۔ پولیس کے 300 سے زیادہ اہلکار بھی امدادی کاموں اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
زلزلے کے بعد مقامی میڈیا کی ویڈیوز میں لوگ گھروں سے نکل کر کھلے مقامات اور گاڑیوں میں پناہ لیتے دکھائی دیے۔ چائنا ارتھ کوئیک نیٹ ورکس سینٹر کے مطابق زلزلے کے بعد 413 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔





