نئی دہلی میں فضائی آلودگی بڑھنے پر سخت پابندیاں، تعمیراتی کام بھی بند ہوں گے

کوڑا جلانے اور کوئلے کے استعمال پر پابندی نافذ، یکم نومبر سے پارکنگ فیس دگنی اور دسمبر میں تعمیراتی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ۔

نئی دہلی میں فضائی آلودگی بڑھنے پر سخت پابندیاں، تعمیراتی کام بھی بند ہوں گےAI Generated

نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موسم سرما کی آمد سے قبل فضائی آلودگی بڑھنے پر حکومت نے پابندیاں سخت کرنا شروع کردی ہیں۔ حکام نے کوڑا کرکٹ کھلے عام جلانے پر پابندی عائد کردی ہے، جبکہ کھانے پینے کے اسٹالز کو کوئلے اور لکڑی کے استعمال سے بھی روک دیا گیا ہے۔

22 اکتوبر کی صبح فضائی آلودگی کی پیمائش کرنے والے آلات نے فضا میں باریک ذرات پی ایم 2.5 کی مقدار 233 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی، جو عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ یومیہ حد سے تقریباً 15 گنا زیادہ ہے۔

بھارت کے کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں بھی نئی دہلی کی فضائی صورتحال خراب رہنے کا امکان ہے۔ شہر میں گاڑیوں کے دھوئیں، تعمیراتی سرگرمیوں، کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں اور قریبی علاقوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کو آلودگی کی اہم وجوہات قرار دیا جاتا ہے۔

حکومتی منصوبے کے تحت یکم نومبر سے پارکنگ فیس دگنی کی جائے گی، جبکہ سرکاری دفاتر کے ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنے کے انتظامات بھی متعارف کرائے جائیں گے تاکہ سڑکوں پر ٹریفک اور گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں میں کمی لائی جاسکے۔

حکام نے تعمیراتی سرگرمیوں سے متعلق قواعد مزید سخت کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ منصوبے کے مطابق 10 دسمبر سے 20 جنوری تک تعمیرات اور عمارتیں گرانے کے کام پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔

نئی دہلی میں ہر سال نومبر سے جنوری کے دوران فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ سرد موسم میں آلودہ ذرات فضا کی نچلی سطح پر جمع ہونے سے شہریوں کو سانس لینے میں مشکلات اور صحت کے دیگر خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسف نے بھی خبردار کیا ہے کہ آلودہ فضا بچوں میں سانس کی شدید بیماریوں کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

خبر شیئر کریں: