جاپان میں بجلی اور گیس کے بلوں پر دوبارہ سبسڈی دینے کی تیاری

مہنگائی سے متاثرہ شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نئی مالی معاونت پر غور کر رہی ہے، حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

جاپان میں بجلی اور گیس کے بلوں پر دوبارہ سبسڈی دینے کی تیاری

ٹوکیو: جاپان کی حکومت بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے بجلی اور گیس کے بلوں پر دوبارہ سبسڈی دینے پر غور کر رہی ہے۔

دو حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم سانائے تاکائچی کی حکومت دسمبر میں سبسڈی کی بحالی کے معاملے کا جائزہ لے گی۔ اس اقدام کا مقصد گھریلو صارفین پر توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ کم کرنا ہے۔

حکام کے مطابق سبسڈی کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں مختص محفوظ فنڈز استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ اگر یہ رقم ناکافی ہوئی تو اضافی بجٹ پیش کرنے پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔

جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری منورو کیہارا نے بھی کہا ہے کہ حکومت موسم سرما میں بجلی اور گیس کے بلوں پر ریلیف دینے کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے مجوزہ سبسڈی کی رقم یا نفاذ کی تاریخ سے متعلق تفصیلات نہیں بتائیں۔

جاپان میں بجلی اور گیس کے لیے سبسڈی کا سلسلہ 2023 میں توانائی کی درآمدی لاگت بڑھنے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ مختلف مراحل میں جاری رہنے والی یہ سہولت ستمبر 2026 میں ختم ہوگئی تھی۔ حکومت اب تک اس مد میں تقریباً 5.6 ٹریلین ین، یعنی 35.6 ارب ڈالر خرچ کرچکی ہے۔

مجوزہ سبسڈی سے شہریوں کو ریلیف مل سکتا ہے، تاہم اس کے باعث جاپان کے سرکاری اخراجات میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ہے۔ جاپان پہلے ہی بڑے ترقی یافتہ ممالک میں بلند ترین سرکاری قرضوں کا حامل ملک ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ عمومی سبسڈی کے بجائے محدود مدت کے لیے ضرورت مند طبقات کو ہدف بنا کر مالی مدد دینے کی حمایت کرتا ہے۔ جاپانی حکومت کی جانب سے نئی سبسڈی کی منظوری، اس کی رقم اور عملی آغاز کا باضابطہ اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔

خبر شیئر کریں: