غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے، مزید 3 فلسطینی شہید

غزہ شہر اور خان یونس میں الگ الگ فضائی حملوں کے نتیجے میں فلسطینی شہری نشانہ بنے، اکتوبر 2023 سے شہادتوں کی مجموعی تعداد 74 ہزار 480 تک پہنچ گئی۔

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے، مزید 3 فلسطینی شہید

غزہ: فلسطین کے محصور علاقے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ غزہ شہر اور جنوبی علاقے خان یونس میں دو الگ الگ فضائی حملوں کے نتیجے میں مزید تین فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔

فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں قیزان رشوان کے علاقے میں ایک اسرائیلی ڈرون نے شہریوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا۔ حملے میں دو فلسطینی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ دیگر افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

غزہ شہر کے وسطی علاقے الدرج میں التابعین اسکول کے قریب ایک اور ڈرون حملہ کیا گیا، جس میں ایک فلسطینی شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کی حتمی تعداد اور ان کی حالت سے متعلق مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

یہ واقعات 19 اکتوبر کو پیش آئے، جبکہ ان سے متعلق رپورٹ 20 اکتوبر کو جاری کی گئی۔ حملوں کے بعد غزہ میں جنگ بندی کے باوجود شہریوں کی سلامتی سے متعلق خدشات ایک بار پھر سامنے آئے ہیں۔

غزہ کے محکمہ صحت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 74 ہزار 480 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ایک لاکھ 75 ہزار 539 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

یہ اعدادوشمار فلسطینی محکمہ صحت کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں اور جاری تنازع کے دوران ہلاکتوں اور زخمیوں کی صورتحال ظاہر کرتے ہیں۔ تباہ شدہ عمارتوں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کی مشکلات کے باعث نقصانات کی مکمل تفصیلات جمع کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔

غزہ میں اکتوبر 2025 سے جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہے، تاہم اس کے بعد بھی مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملوں اور فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ ان واقعات کے باعث شہری آبادی کے تحفظ اور جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کے بارے میں سوالات برقرار ہیں۔

اسرائیل کا مؤقف رہا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس کی سرگرمیوں اور مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں کی جاتی ہیں، جبکہ حماس اسرائیل پر معاہدے کی خلاف ورزی اور امن کوششوں کو متاثر کرنے کا الزام عائد کرتی ہے۔

غزہ کے شہریوں کو مسلسل تشدد کے ساتھ رہائش، طبی سہولتوں اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ طویل جنگ کے نتیجے میں علاقے کا بنیادی ڈھانچہ بڑے پیمانے پر متاثر ہوا ہے اور بڑی تعداد میں خاندان اب بھی امداد پر انحصار کررہے ہیں۔

تازہ حملوں کے بعد غزہ میں انسانی جانوں کے تحفظ اور جنگ بندی کے عملی نفاذ کی اہمیت مزید نمایاں ہوگئی ہے۔ فلسطینی طبی حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والے جانی نقصانات کی تفصیلات جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

خبر شیئر کریں: