آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہاز میں آگ لگنے کا دعویٰ، ایران کی جانب سے اہم تفصیلات سامنے آگئیں

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق 20 لاکھ بیرل سے زائد تیل لے جانے والا جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرایا، تاہم جہاز کی شناخت اور واقعے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہاز میں آگ لگنے کا دعویٰ، ایران کی جانب سے اہم تفصیلات سامنے آگئیںAI Generated

تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایک بڑا تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد دھماکے اور آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ ایرانی حکام کے مطابق جہاز میں 20 لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل موجود تھا اور وہ مقررہ بحری راستے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گزرنے کی کوشش کررہا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے 20 اکتوبر کو جاری بیان میں کہا کہ متاثرہ سپر ٹینکر آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے باہر نکلنے کی کوشش میں تھا۔ ایرانی حکام نے اس راستے کو غیر مجاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاز نے بحری سلامتی کے لیے جاری ہدایات کی پابندی نہیں کی۔

بیان کے مطابق جہاز نے اپنے محلِ وقوع کی نشاندہی کرنے والے آلات اور ریڈار نظام بند کر رکھے تھے۔ ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ جہاز کے عملے کو تنبیہ بھی کی گئی، تاہم اس کے باوجود سفر جاری رکھا گیا اور جہاز بارودی سرنگ کی زد میں آگیا۔

ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے نتیجے میں جہاز میں دھماکا ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم اب تک متاثرہ جہاز کا نام، رجسٹریشن، پرچم یا اس کی ملکیت سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

اسی طرح جہاز پر موجود عملے کی تعداد، ممکنہ زخمیوں یا ہلاکتوں اور تیل کے اخراج سے متعلق بھی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے واقعے کے نقصانات اور اس کی مکمل نوعیت کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں۔

پاسدارانِ انقلاب نے جہاز رانی کرنے والی کمپنیوں اور بحری عملے کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران ایران کی مقرر کردہ ہدایات کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق غیر مجاز راستوں سے گزرنے والے جہازوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

اس سے قبل بھی ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز میں دیگر تیل بردار جہازوں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے واقعات رپورٹ کیے تھے۔ تاہم بعض سابقہ واقعات سے متعلق امریکی سینٹرل کمانڈ ایرانی مؤقف کی تردید کرچکی ہے۔

تازہ واقعے کے بارے میں بھی آزاد ذرائع سے ایسی معلومات سامنے نہیں آئیں جن کی بنیاد پر یہ تصدیق کی جاسکے کہ جہاز واقعی بارودی سرنگ سے ٹکرایا تھا۔ سمندری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ذرائع کے مطابق ایرانی دعوؤں میں متاثرہ جہازوں کی شناخت اور واقعات کے اوقات سے متعلق تفصیلات کی کمی موجود ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے خلیجی ممالک کا خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا جہاز رانی میں رکاوٹ بین الاقوامی تجارت اور تیل کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔

رواں سال امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ ایران کی جانب سے بحری راستوں پر پابندیوں اور امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں سے متعلق بحری اقدامات نے خطے میں جہاز رانی کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔

بحری تجارت کے اعدادوشمار کے مطابق حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل معمول کی سطح سے کافی کم رہی ہے۔ تجارتی جہازوں پر حملوں اور ممکنہ بارودی سرنگوں کے خدشات کے باعث جہاز رانی کی کمپنیوں کو اضافی حفاظتی خطرات کا سامنا ہے۔

ایران کے تازہ بیان کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی سلامتی کا معاملہ ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تاہم جہاز کی شناخت، عملے کی صورتحال اور بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق تک اس واقعے کو ایرانی حکام کا بیان ہی سمجھا جائے گا۔

خبر شیئر کریں: