امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی، 66 فیصد شہری کارکردگی سے ناخوش

وسط مدتی انتخابات سے قبل نئے عوامی سروے میں صدر ٹرمپ کی کارکردگی کو صرف 31 فیصد افراد کی حمایت، مہنگائی اور ایران کے ساتھ جنگ اہم عوامی خدشات میں شامل۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی، 66 فیصد شہری کارکردگی سے ناخوش
فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے چند روز قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ نئے سروے کے مطابق 66 فیصد امریکی شہری ان کی بطور صدر کارکردگی سے مطمئن نہیں، جبکہ صرف 31 فیصد نے ان کی کارکردگی کی حمایت کی ہے۔

19 اکتوبر کو جاری ہونے والے رائٹرز اور اِپسوس کے سروے میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت ان کے دونوں صدارتی ادوار کی کم ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی۔ دو ہفتے قبل اسی ادارے کے سروے میں ان کی کارکردگی کی حمایت کرنے والوں کی شرح 32 فیصد تھی، جو اب مزید کم ہوکر 31 فیصد رہ گئی ہے۔

سروے میں ایک ہزار 679 امریکی بالغ افراد کی رائے حاصل کی گئی، جن میں ایک ہزار 279 رجسٹرڈ ووٹرز بھی شامل تھے۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی شہریوں کی بڑی تعداد ملکی معیشت، روزمرہ اخراجات اور خارجہ پالیسی سے متعلق حکومتی اقدامات پر تحفظات رکھتی ہے۔

امریکی معیشت کے بارے میں عوامی رائے بھی صدر ٹرمپ کے لیے ایک اہم چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔ سروے کے مطابق 68 فیصد افراد ان کی معاشی پالیسیوں سے مطمئن نہیں۔ ان میں ری پبلکن جماعت سے وابستہ بعض افراد بھی شامل ہیں۔

پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، مہنگائی اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاشی اثرات عوامی تشویش کے اہم اسباب میں شامل ہیں۔ ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی گھرانوں کے اخراجات کو متاثر کیا ہے۔

سروے میں آئندہ کانگریسی انتخابات کے حوالے سے بھی ووٹرز کی ترجیحات معلوم کی گئیں۔ 47 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کا اظہار کیا، جبکہ 35 فیصد نے ری پبلکن امیدواروں کو ترجیح دی۔ اس طرح قومی سطح کے سروے میں دونوں جماعتوں کے درمیان 12 فیصد پوائنٹس کا فرق سامنے آیا۔

دو ہفتے قبل اسی نوعیت کے سوال پر ڈیموکریٹس کو سات فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔ تازہ سروے میں یہ فرق بڑھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ووٹرز کی ترجیحات میں تبدیلی آرہی ہے۔ تاہم قومی سروے کے نتائج کسی مخصوص حلقے میں کامیابی یا شکست کی پیش گوئی نہیں کرتے۔

خواتین ووٹرز کے رجحانات میں بھی نمایاں فرق ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سروے میں تقریباً نصف خواتین نے ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کی، جبکہ ری پبلکن امیدواروں کی حمایت کرنے والی خواتین کی شرح نسبتاً کم رہی۔

امریکا میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے۔ ان انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 33 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ انتخابی نتائج کانگریس میں دونوں بڑی جماعتوں کی نمائندگی اور صدر ٹرمپ کی باقی صدارتی مدت کے دوران قانون سازی پر اثرانداز ہوں گے۔

اس وقت ری پبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہے۔ تاہم کسی بھی ایوان میں اکثریت تبدیل ہونے کی صورت میں بجٹ، حکومتی پالیسیوں اور قانون سازی کے معاملات میں صدر کو مختلف سیاسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے دوسرے سروے بھی صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے متعلق وسیع عوامی عدم اطمینان ظاہر کرتے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ، اے بی سی نیوز اور اِپسوس کے سروے میں 33 فیصد افراد نے صدر کی کارکردگی کی حمایت کی، جبکہ 66 فیصد نے عدم اطمینان ظاہر کیا۔

اسی طرح پیو ریسرچ سینٹر کے اکتوبر کے سروے میں صدر ٹرمپ کی کارکردگی کی حمایت 30 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ مختلف سروے اداروں کے نتائج میں معمولی فرق نمونے، سوالات اور سروے کے طریقہ کار کے باعث ہوسکتا ہے، تاہم ان میں صدر کی کارکردگی سے متعلق منفی رائے کا تناسب زیادہ رہا ہے۔

سیاسی تجزیے میں یہ بات اہم ہے کہ صدر کی مقبولیت اور کانگریسی انتخابات کے نتائج دو الگ معاملات ہیں۔ ووٹرز کی ترجیحات کے ساتھ امیدواروں کی مقامی مقبولیت، حلقوں کی سیاسی صورتحال اور انتخابی شرکت بھی نتائج پر اثرانداز ہوتی ہے۔

وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آنے والے یہ اعدادوشمار امریکی عوام کی موجودہ سیاسی اور معاشی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔ آئندہ دنوں میں انتخابی مہم، حکومتی فیصلے اور ووٹرز کی شرکت کانگریس کی نئی تشکیل کے لیے اہم عوامل ہوں گے۔

خبر شیئر کریں: